تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 405
ت جلد ۲ ۴۰۲ مدرسہ احمدیہ کی بنیاد پورا کار بنکل بن گیا۔ساتھ ہی آپ کی ڈاڑھ میں سخت درد شروع ہو گیا۔ڈاکٹر مرزا محمد یعقوب بیگ صاحب نے (جو تین ماہ کی چھٹی پر قادیان آئے ہوئے تھے صبح کو ڈاڑھ نکالی اور شام کو پھوڑے کا اپریش کیا۔حضرت مولوی صاحب کو اس سے انتہائی تکلیف اور درد و کرب پہنچی اور آپ رات بھر سو نہ سکے۔یہ رات حضرت اقدس کے لئے بھی انتہائی بے چینی کی رات تھی۔باوجودیکہ ۲۰/ اگست ۱۹۰۵ء کو الماری کے تختے سے سر کو چوٹ لگنے سے بہت سا خون آپ کا نکل گیا تھا اور پہلے ہی سخت درد تھا نیز دوران سرکی بیماری کی شکایت بھی تھی لیکن حضور اقدس کو مولوی عبد الکریم صاحب کی تکلیف کا بے حد احساس تھا اور خود نہ صرف اس رات بلکہ کئی راتیں جاگتے گزاریں اور دعاؤں میں مصروف رہے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کبھی اس قسم کا اضطراب اور فکر میں نے اپنی اولاد کے لئے بھی نہیں کیا۔حضرت اقدس کی شبانہ روز دعا کا معجزہ اور مولوی صاحب کی کار بنکل سے بکلی شفایابی دعاؤں کا ایسا معجزانہ اثر ہوا کہ کار بنکل جیسی مہلک بیماری سے آپ بکلی شفایاب ہو گئے۔حالانکہ ذیا بیطس کا مریض اگر کار بنکل کا شکار ہو جائے اور مریض بوڑھا ہو تو اس کا بچنا مشکل ہوتا ہے۔ڈاکٹر مرزا محمد یعقوب بیگ صاحب کا بیان ہے کہ "مولوی صاحب کی یہ ابتدائی بیماری بہت سخت اور خطرناک تھی۔اس شدت سے اس کا دورہ ہوا کہ میں ایمان سے کہہ سکتا ہوں کہ مولوی صاحب کا اتنی لمبی معیاد یعنی ا۵ دن تک زندہ رہنا ایک معجزہ تھا۔اور یہ محض حضرت اقدس کی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔۱۴ ستمبر ۱۹۰۵ء کو حضرت مولوی صاحب کو کلورو نام سنگھا کر ان کا بڑا آپریش ہو ا جس سے ہاتھ پاؤں سرد اور نبض قریباً ساقط ہو گئی۔حضور کو اطلاع ہوئی تو آپ نے ان کے لئے مشک بھیجوایا اور دعا میں مشغول ہو گئے۔ادھر آپ نے دعا کے لئے سجدہ میں سر رکھا ادھر مولوی صاحب کی حالت جو نہایت خطرناک تھی اصلاح پکڑنے لگی اور ابھی حضور دعا سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ نبض بالکل درست اور مضبوط ہو گئی۔اس حیرت انگیز معجزہ کو دیکھ کر ڈاکٹر دنگ رہ گئے۔اس طرح کا واقعہ یکم اکتوبر ۱۹۰۵ء کو بھی پیش آیا جب کہ ان پر غشی کی کیفیت طاری تھی۔کئی روز سے پیچش تھی کچھ کھایا پیا بھی نہیں تھا اور نبض نا معلوم ہی تھی۔حضرت اقدس کو اطلاع ہوئی۔آپ نے دوا بھی دی اور دعا بھی فرمائی۔ابھی دوا اندر بھی نہ گئی تھی کہ نبض فور اطاقت میں آگئی اور آپ ہوش میں آگئے۔" المختصر دعاؤں نے اعجازی اثر دکھایا یہاں تک کہ خود مولوی صاحب نے فرمایا کہ اب مجھے اصل بیماری سے بالکل صحت ہو گئی ہے اور انشاء اللہ دو تین روز تک چلنے پھرنے کے قابل ہو جاؤں گا۔