تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 402 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 402

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۳۹۹ مدرسہ احمدیہ کی بنیاد مخدوم الملت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور حضرت مولوی برہان الدین صاحب کا انتقال ۱۹۰۵ء کا سال عام الحزن کہلانے کا مستحق ہے کیوں کہ اس سال جماعت کے کئی مقتدر عام الحزن بزرگ انتقال فرما گئے۔مثلاً حضرت منشی عبد الحمید خان صاحب کپور تھلوی ( تاریخ وفات ۱۰/ مارچ ۱۹۰۵ء) بابو محمد افضل صاحب ایڈیٹر ” البدر " ( تاریخ وفات ۲۱ مارچ ۱۹۰۵ء) مولوی جمال الدین صاحب سید واله ( تاریخ وفات ۲۲ / جولائی ۱۹۰۵ء) حضرت مولوی عبد الکریم صاحب تاریخ وفات ۱۱/ اکتوبر ۱۹۰۵ء) حضرت مولوی برہان الدین صاحب ( تاریخ وفات ۳ / دسمبر ۱۹۰۵ء) ان کے علاوہ حضرت مولوی نور الدین صاحب کی بڑی اہلیہ فاطمہ صاحبہ ( تاریخ وفات ۲۸ / جولائی ۱۹۰۵ء) اور ان کے صاحبزادہ عبد القیوم صاحب ( تاریخ وفات ۲۱ / اگست ۱۹۰۵ء) بھی اسی سال فوت ہو گئے۔" یوں تو سلسلہ کو ان سب بزرگوں اور دوستوں کی جدائی کا نقصان پہنچا مگر مخدوم الملت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب صافی اور حضرت مولوی برہان الدین صاحب جیسے بلند پایہ علماء اور خدام ملت بزرگوں کی مفارقت نے تو پوری جماعت کو سوگوار کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت ۱۲/ ستمبر ۱۹۰۵ء کو ان حوادث کے بارے میں حضور کو الہاما بتایا تھا کہ دو شہتیر ٹوٹ گئے " n نیز الہام ہوا " فزع عیسی و من معدہ " عیسی اور اس کے ساتھی گھبرا گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بالخصوص مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات کا اس قدر صدمہ ہوا کہ چند دن گزرنے کے بعد حضور نے شام کے بعد دوستوں میں بیٹھنا چھوڑ دیا اور خدام کے عرض کرنے پر فرمایا کہ جب میں باہر دوستوں میں بیٹھا کرتا تھا تو مولوی عبد الکریم صاحب میرے دائیں بیٹھے ہوتے تھے۔اب میں بیٹھتا ہوں اور مولوی صاحب نظر نہیں آتے تو میرا دل گھٹنے لگتا ہے اس لئے میں نے مجبورا یہ طریق چھوڑ دیا ہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضور نے معاذ اللہ ان کی وفات پر بے صبری کا اظہار فرمایا نہیں ایسا ہر گز نہیں۔حضور کا تو یہ مقام تھا کہ آپ نے فطری غم کے باوجود دو سروں کو نصیحت فرمائی کہ ”مولوی عبد الکریم صاحب کی