تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 394
اریخ احمدیت جلد ۲ ٣٩١ زلازل کے غیر معمولی سلسلہ کا آغاز ہے۔سر پر پنجابی وضع کی سپید پگڑی باندھتے ہیں۔سیاہ یا خا کی لمبا کوٹ زیب تن فرماتے ہیں۔پاؤں میں جراب اور ویسی جوتی ہوتی ہے۔عمر تقریباً ۶۶ سال کی ہے۔مرزا صاحب کے مریدوں میں میں نے بڑی عقیدت دیکھی اور انہیں بہت خوش اعتقاد پایا۔میری موجودگی میں بہت سے معزز مہمان آئے ہوئے تھے جن کی ارادت بڑے پایہ کی تھی اور بے حد عقیدت مند تھے۔مرزا صاحب کی وسیع الاخلاقی کا یہ ایک ادنیٰ نمونہ ہے کہ اثنائے قیام کی متواتر نوازشوں کے خاتمہ پر بایں الفاظ مجھے مشکور ہونے کا موقعہ دیا " ہم آپ کو اس وعدہ پر اجازت دیتے ہیں کہ آپ پھر آئیں اور کم از کم دو ہفتہ قیام کریں۔" ( اس وقت کا تبسم ناک چہرہ اب تک میری آنکھوں میں ہے) میں جس شوق کو لے کر گیا تھا ساتھ لایا۔اور شاید وہی شوق مجھے دوبارہ لے جائے۔واقعی قادیان نے اس جملہ کو اچھی طرح سمجھا ہے کہ حَسَنْ خُلْقَكَ وَلَوْمَعَ الْكُفَّارِ " میں نے اور کیا دیکھا؟ مگر قلمبند کرنے کا موقع نہیں۔سٹیشن پر جانے کا وقت سر پر آچلا ہے۔پھر کبھی بتاؤں گا کہ میں نے کیا دیکھا۔راقم -- " مولانا ابوالکلام آزاد کے تاثرات مولانا ابو النصر آہ نے قادیان سے واپسی کے معا بعد اپنے تاثرات شائع کر دیئے مگر مولانا آزاد نے کافی عرصہ بعد اپنی سوانح لکھواتے ہوئے مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی کو اپنے سفر قادیان کے حالات قلمبند کرائے جو ان کی وفات کے بعد کتاب "آزاد کی کہانی میں شائع ہوئے۔جہاں مولانا ابو النصر کے تاثرات صاف واضع اور واقعات کے عین مطابق ہیں وہاں مولانا آزاد کے بیان میں شاید اس وجہ سے کہ برسوں بعد محض اپنی یادداشت سے مرتب کیا گیا تھا کئی خلاف واقعہ باتیں بھی آگئی ہیں۔" مثلاً انہوں نے لکھا ہے کہ حضرت اقدس نے شب گزشتہ کا یہ الہام سنایا کہ ایاک نعبد و ایاک نستعین "۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حضور کو عمر بھر ایسا کوئی الہام نہیں ہوا۔یہ بھی ممکن ہے کہ خود مولانا نے واقعات کو عمد امسح کر کے پیش کیا ہو (جیسا کہ ان کی اس خود نوشت سوانح حیات کے بارے میں رسالہ "الفرقان" بریلی نے تاریخی حقائق کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ وہ سراسر غلط ہیں) افسوسناک بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی سوانح میں اپنے بڑے بھائی کے قادیان میں جانے کا اشارہ تک ذکر کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔البتہ ان کے بیان سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کے دوران کوئی ایسا رنگ ضرور اختیار کیا جو حضرت اقدس علیہ السلام پر گراں گزرا۔جیسا کہ مولانا ابو النصر آہ کو رویا میں دکھایا گیا تھا۔بہر حال سفر قادیان سے متعلق انہوں نے اپنے تاثرات یہ لکھوائے کہ " سفر پنجاب میں قادیان بھی گیا۔مرزا غلام احمد قادیانی کے