تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 389 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 389

اریخ احمدیت جلد ۲ ۳۸۶ زلازل کے غیر معمولی - اس قسم کے حوادث کی کثرت کی وجہ سے آخر فرانسیسی زبان میں ان کی رجمنٹوں وغیرہ کے نام تختوں پر لکھ کر ان کے گلوں میں لٹکانے پڑے۔ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ یورپ جو کچھ عمارات تیار کرا رہا ہے وہ مٹا دی جائیں گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اس جنگ نے علاوہ ظاہری عمارتوں کے گرانے کے یورپین تمدن کی بنیادوں کو بھی ہلا دیا۔ایک علامت اس جنگ کی یہ بتائی گئی تھی کہ تمام بیڑے اس وقت تیار رکھے جائیں گے۔چنانچہ اس جنگ کے دوران میں برسر پیکار قوموں کے علاوہ دوسری حکومتوں کو بھی اپنے بٹیرے ہر وقت تیار رکھنے پڑتے تھے۔ایک علامت اس جنگ کی یہ بتائی گئی تھی کہ بحری تیاریاں بھی بڑے زور سے ہوں گی۔چنانچہ جس قدر جہاز اس جنگ میں استعمال ہوئے اس سے پہلے کبھی اس کی مثال نہیں ملتی۔ایک نشانی اس آفت کی یہ بتائی گئی تھی کہ وہ اچانک آئے گی۔چنانچہ بڑے بڑے مد بردں نے اقرار کیا کہ گو وہ ایک جنگ کے منتظر تھے مگر اس قدر جلد اس کے پھوٹ پڑنے کی ان کو امید نہ تھی ایک علامت یہ تھی کہ جس طرح خدا کا ذکر مٹ گیا ہے اس طرح گھر برباد کر دئیے جائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔سب سے زیادہ عیاشی میں مبتلا فرانس کا مشرقی علاقہ تھا۔تمام یورپ کو شراب و ہیں سے بہم پہنچائی جاتی تھی اور عیش و عشرت کو پسند کرنے والے کل مغربی ممالک سے وہاں جمع ہوتے تھے۔سواسی علاقہ کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔جس طرح خدا کا ذکر وہاں سے مٹ گیا تھا وہاں کے در و دیوار اسی طرح مٹا دیئے گئے۔ایک عظیم الشان علامت جو اپنے اندر کئی نشانات رکھتی ہے۔یہ بتائی گئی تھی کہ اس جنگ میں زار کا حال بہت ہی خراب ہو گا جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی اس وقت کے حالات اس کے الفاظ کے پورا ہونے کے بالکل مخالف تھے۔مگر پیشگوئی پوری ہوئی اور ہر ایک کے لئے حیرت کا موجب بنی۔جس وقت روس میں فساد پھوٹا اس وقت زار روس سرحد پر فوجوں کے معائنہ کے لئے گیا ہوا تھا۔زار روس نے لوگوں میں جوش کی حالت معلوم کر کے گورنر کو سختی کرنے کا حکم دے دیا۔مگر اس دفعہ سختی نے خلاف معمول اثر کیا۔لوگوں کا جوش اور بھی بڑھ گیا۔بادشاہ نے اس گورنر کو بدل کر ایک اور گورنر مقرر کر دیا اور خود دار الخلافہ کی طرف چلا۔مگر راستہ میں اسے اطلاع ملی کہ لوگوں کا جوش تیزی پر ہے اور یہ کہ اس کو اس وقت دار الخلافہ کی طرف نہیں آنا چاہیے۔مگر بادشاہ نے اس نصیحت کی پرواہ نہ کی اور خیال کیا کہ اس کی موجودگی میں کوئی شور نہیں ہو سکتا اور آگے بڑھتا گیا۔کچھ ہی دور آگے ٹرین گئی تھی کہ معلوم ہوا باغیوں نے دفاتر وزارت پر قبضہ کر لیا ہے اور ملکی حکومت قائم ہو گئی ہے۔یہ سب