تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 388
ت جلد ۳۸۵ زلازل کے غیر معمولی سلسلہ کا آغاز پر بھی وہی حاکم ہے جو حکومت کے نشہ میں چور ہو کر اپنے آپ کو خدائی سے باہر سمجھتے ہیں۔زلزلہ عظیمہ سے متعلق مختلف زلزلہ عظیمہ کی پیشگوئی میں یہ بتایا گیا تھا کہ اس کی ابتداء اس طرح ہوگی کہ کوئی مصیبت نازل علامات کا جنگ عظیم اول میں پورا ہونا ہو گی اور تمام دنیا پر زلزلہ آئے گا۔چنانچہ اسی و قتل ہوا جس کے نتیجہ میں عالم گیر جنگ چھڑ گئی۔طرح اس جنگ کی ابتداء ہوئی۔۲۸ / جون ۱۹۱۴ء کو آسٹریا کا شہزادہ ( آرچ ڈیوک فرانس فرڈیننڈ) دوسری بات اس پیشگوئی میں یہ بتائی گئی تھی کہ اس آفت عظیمہ کا اثر ساری دنیا پر ہو گا۔چنانچہ یہ بات روز روشن کی طرح پوری ہوئی۔اس سے پہلے ایک بھی مصیبت ایسی نہیں آئی جس کا اثر اس وسعت کے ساتھ ساری دنیا پر پڑا ہو۔ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ پہاڑ اور شہر اڑائے جائیں گے اور کھیت برباد ہوں گے سوایسا ہی ہوا۔بیسیوں پہاڑیاں کثرت گولہ باری اور سرنگوں کے لگانے سے مٹ گئیں اور بہت سے شہر برباد ہو گئے۔جس ملک کی فوج آگے بڑھی اس نے دوسرے ملک کے کھیت اور شہر اجاڑ دیئے۔سبزہ کا نام و نشاں باقی نہ چھوڑا۔ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ جانوروں کے ہوش و حواس اڑ جائیں گے۔سو ایسا ہی ہوا۔ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ زمین الٹ پلٹ ہو جائے گی۔پینا نچہ فرانس۔سردیا اور روس کے علاقوں میں گولہ باری کی کثرت سے بعض جگہ اس قدر بڑے گڑھے پڑ گئے کہ نیچے سے پانی نکل آیا اور اسی طرح خندقوں کی جنگ کے طریق پر زور دینے کی وجہ سے ملک کا ہر حصہ کھو گیا۔ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ ندیوں کے پانی خون سے سرخ ہو جائیں گے اور خون کی ندیاں چلیں گی۔سو بلا مبالغہ اسی طرح ہوا۔بعض دفعہ اس قدر خون ریزی ہوتی تھی کہ ندیوں کا پانی فی الواقعہ میلوں میل تک سرخ ہو جاتا تھا۔ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ مسافروں پر وہ ساعت سخت ہوگی اور بعض ان میں سے راستہ بھولتے پھریں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جس وقت جنگ شروع ہوئی ہے اس وقت ہزاروں لاکھوں آدمی دشمنوں کے ممالک میں گھر گئے اور بعض ہزاروں میل کا چکر لگا کر گھروں کو پہنچے اور جنگ کے درمیان بھی بہت دفعہ فوجی سپاہیوں کو بعض ناکوں کے دشمن کے قبضہ میں چلے جانے کی وجہ سے سینکڑوں میل کا سفر کر کے جانا پڑتا تھا اور انگریز سپاہی بوجہ فرانس میں مسافر ہونے کے راستہ بھول جاتے تھے۔چنانچہ