تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 383 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 383

اریخ احمدیت جلد ۲ ٣٨٠ زلازل کے غیر معمولی سلسلے کا آغاز دو کے سوا باقی سب لقمہ اجل ہو گئے۔شہر میں اس قدر موتا موتی لگی کہ بعض گھر جن میں 11 افراد تھے ان میں سے صرف ایک زندہ رہا اور باقی سب نهنگ اجل کا شکار ہو گئے۔فاعتبر وا یا اولی الابصار - اس جگہ یہ بات بھی بیان کر دینے کے لائق ہے کہ جہاں میری چارپائی تھی وہاں سرہانے اور پائینتی کی طرف تھوڑی دیواریں کھڑی رہیں۔اور چھت کے چار بالے بدستور اپنی جگہ قائم رہے اور میں بالکل محفوظ حالت میں اپنی چارپائی پر پڑا رہا۔اور نہ صرف میں بالکل محفوظ رہا۔بلکہ گھر کے دیگر افراد بھی ہر طرح خیرت سے رہے۔اور گھر کی جملہ اشیاء کو اللہ تعالی نے اپنے حفظ و امان میں رکھا۔t فالحمد لله رب العالمين - " غیروں کا اقرار یہ خطر ناک زلزلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایسی واضح اور بین شہادت تھا کہ بعض متعصب اخبارات کو بھی صاف صاف اقرار کرنا پڑا کہ ” جب سے مرزا صاحب نے دعوی کیا ہے تب سے ایسے صدمات وبائی امراض اور زلزلے آنے لگے ہیں۔اس سے پیشتر ایک صدی کی تاریخ کو بغور دیکھا جاوے تو اس صدی میں کسی ایسے صدمے کا آنا معلوم نہیں ہو تا۔بایں ہمہ اس نشان سے فائدہ اٹھانے کی بجائے الٹا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زلزلہ کی پیشگوئیاں کرنا جرم قرار دینا چاہیے۔" زلزلے کے بعد حضرت اقدس اور حضور کے خدام کی رہائش باغ میں حضرت صاجزاده مرزا بشیر احمد صاحب کا بیان ہے کہ ”جب ۱۹۰۵ء کا زلزلہ آیا تو۔۔۔۔نواب محمد علی خاں صاحب کے شہر والے مکان کے ساتھ ملحق حضرت صاحب کے مکان کا جو حصہ تھا اس میں ہم دوسرے بچوں کے ساتھ چارپائیوں پر لیٹے ہوئے سو رہے تھے۔جب زلزلہ آیا تو ہم سب ڈر کے بے تحاشہ اٹھے اور ہم کو کچھ خبر نہیں تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔ہم بھاگتے ہوئے بڑے مکان کی طرف آئے۔وہاں حضرت مسیح موعود اور والدہ صاحبہ کمرے سے نکل رہے تھے۔ہم نے جاتے ہی حضرت مسیح موعود کو پکڑ لیا اور آپ سے لپٹ گئے۔۔۔کوئی ادھر کھینچتا تھا تو کوئی ادھر اور آپ سب کے درمیان میں تھے۔آخر بڑی مشکل سے آپ اور آپ کے ساتھ چھٹے ہوئے ہم سب بڑے صحن میں پہنچے۔اس وقت تک زلزلے کے دھکے بھی کمزور ہو چکے تھے۔تھوڑی دیر کے بعد آپ ہم کو لے کر اپنے باغ میں تشریف لے گئے۔دوسرے احباب بھی باغ میں پہنچ گئے۔وہاں حسب ضرورت کچھ کچے مکان بھی تیار کر والئے گئے اور کچھ خیمے منگوا لئے گئے اور پھر ہم سب ایک عرصہ باغ میں مقیم رہے۔ان دنوں میں مدرسہ بھی وہیں لگتا تھا۔گویا