تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 25
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۵ مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام اشتهار واجب الاظهار" (مندرجه تبلیغ رسالت جلد ہفتم صفحہ ۴۹) میں ایام الصلح اردو اور فارسی دونوں کو غیر شائع شدہ قرار دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایڈیشن ایک ساتھ اشاعت پذیر ہوئے جیسا کہ اخبار الحکم ۱۰/ جنوری ۱۸۹۹ء صفحہ ا کی اس خبر سے ظاہر ہے کہ کتاب ایام الصلح فارسی اور اردو دونوں مکمل ہو کر شائع ہو گئی ہیں۔" ۵۵- ضرورة الامام ( طبع اول) صفحہ ۲۳ و عصائے موسی صفحہ ۲۳ ( از الهی بخش صاحب اکار شٹ) ۵۶ الحکم ۲۹/ اکتوبر ۱۸۹۸ء صفحه ۹ کالم نمبر ۲ (مجدد اعظم " حصہ اول صفحہ ۵۷۴ پر اس کی تاریخ اشاعت ستمبر ۱۸۹۸ء لکھی ہے جو صحیح نہیں) ۵۷- ضرورة الامام طبع اول صفحه ۲۳ ۵۸- ایضا حاشیه صفحه ۲۹ ۵۹ عصائے موسی صفحه ۲ از منشی الہی بخش صاحب اکاؤشٹ) ۶۰ ایضاً۔صفحہ ۲۰-۲۱ ۶۳ ايضا صفحه 19 بحوالہ "حقیقت الوحی " تمه صفحه ۱۰۸ ۱۱۰ ( طبع اول) - الحکم ۱۵ - اکتوبر ۱۸۹۸ء صفحہ سے کالم نمبرا ۶۴- حجم الله می (طبع اول صفحه به ۶۵- حجم اللہ کی ( طبع اول صفحه ۴ حیات احمد جلد پنجم صفحه ۱۴ ۶۷ ناؤ ضلع راجشاری بنگال میں پیدا ہوئے۔۱۹۰۲ ء میں ٹیچر کی حیثیت سے گورنمنٹ کی ملازمت میں داخل ہوئے اور ترقی کر کے ڈویر تل انسپکٹر آف سکولز کے عہدے تک پہنچے۔دسمبر ۱۹۱۴ ء میں مولوی مبارک علی صاحب۔بی۔اے۔بیٹی سابق مبلغ جرمنی و امیر صوبائی بنگال کے ذریعہ سے قاریان اگر قبول احمدیت کی سعادت پائی۔دسمبر ۱۹۳۶ میں ہجرت کر کے مستقل طور پر قادیان آگئے۔آپ نے پوری عمر احمدیت کی خدمت میں بسر کی۔حجم اللہ ہی کے علاوہ کشتی نوح تحفتہ الملوک، آئینہ صداقت اور نماز کا انگریزی ترجمہ بھی آپ نے کیا۔قرآن مجید کے انگریزی ترجمہ کی کمیٹی کے ایک رکن آپ بھی تھے۔آخری بیماری میں جب کبھی کسی احمدی مجاہد کی کارگزاری پڑھتے تو رو رو کر دعا کرتے اے اللہ مجھے توفیق دے کہ میں تندرست ہو کر مصلح موعود کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دینی جہاد کے میدان میں جاؤں اور اس راہ میں شہید ہو جاؤں۔۱۷ جون ۱۹۴۶ء کو وفات پائی اور بہشتی مقبرہ کے قطعہ خاص میں سپرد خاک ہوئے۔(الفضل یکم جولائی ۱۹۴۶ء صفحہ ۴)