تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 363
یت - جلد ۲ فر سيالكوت مقررہ پروگرام کے مطابق حضور ۲۷/ اکتوبر ۱۹۰۴ ء کی صبح کو ۴ بجے کے قریب دار الامان سے روانہ ہوئے۔اس وقت کا نظارہ ایک نہایت ایمان افروز اور قابل دید نظارہ تھا۔قادیان کے قریباً تمام احمدی حاضر تھے۔کچھ تو حضور کی مشایعت کے لئے اور کچھ حضور کے ہمراہ جانے کے لئے۔مدرسہ کے بہت سے طلبہ اور استاد اور بہت سے دیگر دوست بٹالہ تک حضور کے ہمراہ چلنے پر آمادہ تھے۔بہر حال ۴ بجے کے قریب حضور علیہ السلام اپنے خدام کے حلقہ میں دارالامان سے روانہ ہوئے۔ایک درجن سے زیادہ یکے ساتھ تھے اس سفر میں حضور کے ہمراہ حضرت ام المومنین علیہا السلام اور آپ کے خاندان کے دوسرے افراد بھی تھے اس لئے رتھ کے علاوہ پالکی بھی ساتھ تھی۔حضرت اقدس نے نصف راستہ پالکی میں طے کر لینے کے بعد پا پیادہ سفر اختیار فرمایا اور خدام کے ایک بہت بڑے مجمع کے ساتھ پیدل چلتے ہوئے آٹھ بجے کے قریب بٹالہ پہنچے۔بٹالہ اسٹیشن بٹالہ اسٹیشن سے سیالکوٹ تک ایک سیکنڈ کلاس اور ایک تھرڈ کلاس ڈبہ ریزرو کرایا گیا تھا۔بٹالہ اسٹیشن پر جماعت بٹالہ نے شرف نیاز حاصل کیا۔ایک صاحب نے عرض کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی محنت و تکلیف اٹھائے بغیر کمال حاصل ہو جائے۔اس پر حضور نے بڑا لطیف جواب دیا اور بتایا کہ حصول کمال کے لئے مجاہدہ شرط ہے۔اس قسم کے ذکر و اذکار اور خدام کی ملاقات میں گاڑی کا وقت آپہنچا۔دس بجے کے قریب گاڑی نے روانگی کا سل دیا۔پلیٹ فارم پر خاصہ اژدہام تھا۔قادیان کی جماعت جو حضور کو اسٹیشن تک چھوڑنے آئی تھی واپس روانہ ہوئی اور چند ہی منٹ کے اندر گاڑی اسٹیشن سے نکل کر آخر ان کی نظر سے غائب ہو گئی اور خدا کا محبوب امرتسر کی طرف روانہ ہوا۔امر تسرریلوے اسٹیشن بٹالہ سے گاڑی روانہ ہو کر درمیانی سیشنوں سے گزرتی ہوئی گیارہ بجے کے قریب امرتسر پہنچی۔گاڑی کے پہنچتے ہی ہر طرف سے لوگ روڑتے ہوئے سامنے آکھڑے ہوئے۔موافق تو موافق مخالف بھی کچھے چلے آتے تھے حتی کہ خود جماعت امر تسر کو مصافحہ کرنا مشکل ہو گیا۔اس مقام پر چند دوستوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں شامل ہونے کا شرف بھی حاصل کیا۔جماعت امر تسر نے حضور اور حضور کے خدام کے لئے گاڑی میں ہی کھانا پیش کیا۔اس دعوت کے لئے انہوں نے حضور سے پہلے ہی منظوری لے رکھی تھی۔۱۲ بجے کے قریب گاڑی نے امرتسر اسٹیشن چھوڑا اور بہت سی روحوں کو شوق زیارت میں مضطرب چھوڑ کر آگے نکل گئی۔