تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 361 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 361

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۳۵۸ ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت " کے متعلق پیشگوئی کی اطلاع کر دی جائے میں اس کا اعلان شائع کر دوں گا۔زرقانی صاحب نے اصرار کیا کہ تحسین یوم و مکاں میری رائے پر منحصر ہے۔میر صاحب نے یہ بات بھی قبول کرلی اور آخر بڑی رد و قدح کے بعد ۲۵ ا جولائی ۱۹۰۶ء کو مغرب کے بعد کا وقت مباحثہ کے لئے مقرر ہوا۔مقام مناظرہ مولوی عبد الحق صاحب دہلوی مولف تغییر حقانی کا مکان تجویز کیا گیا۔شرائط مباحثہ کے لئے فریقین ۲۵ اور ۲۶ جولائی ۱۹۰۶ء کو مولوی عبد الحق صاحب حقانی کے مکان پر جمع ہوئے۔حکیم رضی الدین صاحب خلف الرشید حکیم ظہیر الدین خاں آنریری مجسٹریٹ دہلی نے یہ تجویز پیش کی کہ اس وقت شرائط طے کر لی جائیں۔میر قاسم علی صاحب نے اس تجویز سے پورا پورا اتفاق ظاہر کیا اور کہا کہ میں تو جملہ شرائط لکھ کر پہلے ہی دے چکا ہوں۔ان شرائط کی روشنی میں تصفیہ ہو جائے اور زور دیا کہ مرزا محمود صاحب زرقانی اپناد عومی پیش کریں۔لیکن زرقانی صاحب نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا میں اپنا دعوئی پیش نہیں کروں گا۔حکیم رضی الدین صاحب نے بہتیرا سمجھایا کہ زرقانی صاحب ایران سے محض اسی غرض کے واسطے ہندوستان تشریف لائے ہیں کہ اہل ہند کو اپنا مذ ہب سنا کر منوائیں۔پس ان کو علی الاعلان اپنے دعاوی و دلائل کا بیان کرنا ضروری ہے۔اور ہر شخص کو اس پر جرح کا حق دینا انصاف پر مبنی ہے لیکن زرقانی صاحب کسی طرح تیار نہ ہوئے اور مجلس برخاست ہو گئی۔چند دن بعد میر قاسم علی صاحب میرزا محمود صاحب زرقانی کو دوبارہ ملے اور کہا کہ آپ اگر گفتگو کرنے سے ڈرتے ہیں تو کم از کم کسی جلسہ میں اپنے دعاوی و دلائل و عقائد بیان کر دیں یا اپنے مذہب کی کوئی کتاب ہمیں قیمت ہی دے دیں اگر آپ کے پاس کتاب نہیں تو ہم کو پتہ لکھ دیجئے ہم وہ کتابیں خود منگالیں گے مگر زرقانی صاحب نے جواب دیا کہ جلسہ دہلی میں نہیں ہو سکتا کیونکہ ٹاؤن ہال میں اجازت جلسہ ملنی مشکل ہے اور دوسری جگہ جلسہ کرنا مجھے منظور نہیں ہے۔کتب مذہبی میرے پاس نہیں نہ کوئی ایسی جامع کتاب ہے جس میں ہمارے مذہبی دعادی و دلائل جمع ہوں۔بہائیت کے متعلق مضامین ۱۹۰۸۷ء میں بابی اور بہائی مذہب کے متعلق ریویو آف ریلیجز اردو و انگریزی میں متعدد مفصل مضامین شائع ہوئے جن سے اس نام نہاد مذہب کی حقیقت بالکل نمایاں ہو گئی اس طرح خود سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی اس کے علمبرداروں پر ہر طرح حجت پوری کر دی گئی۔