تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 360
جلد ۲ ۳۵۷ " ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت " کے متعلق پیشگوئی عیسی کی خدائی کے دلدادہ تھے اب آہستہ آہستہ خود بخود اس عقیدہ سے علیحدہ ہوتے جاتے ہیں۔(۵) خدا تعالیٰ نے میرے لئے رمضان میں مقررہ تاریخوں میں چاند سورج کے گرہن کا نشان دکھایا اور اس کے بعد سچائی کے ثبوت میں طاعون کا عذاب نازل ہوا۔(۶) میری پیدائش چھٹے ہزار کے آخر میں ہوئی ہے جو میری صداقت پر برہان عظیم ہے۔(۷) آیت انا نحن نزلنا الذکر میں مسیح الاسلام کی پیشگوئی تھی جس کے مطابق میں آگیا۔(۸) مجھے ربع صدی سے مکالمہ الہیہ سے مشرف ہونے کا دعویٰ ہے۔میں نے وہ الہام قبل از وقت اپنی کتابوں میں دنیا کے سامنے شائع کئے اور ان میں سے متعدد آج تک پورے ہو چکے ہیں۔علاوہ ازیں ان الہامات کے بعد سے اس وقت تک خدا کی تائید میرے شامل حال ہے جو میرے خدا کی طرف سے ہونے کا ثبوت ہے۔(۹) حضرت مسیح علیہ السلام حقیقت میں فوت شدہ ہیں اور ضروری تھا کہ سورہ تحریم کی پیشگوئی کے مطابق اس امت میں سے ابن مریم پیدا ہو۔چنانچہ میرے ذریعہ سے یہ وعدہ پورا ہوا اور میرا نام عیسی رکھا گیا جو میری صداقت کا واضح ثبوت ہے۔مرزا محمود زرقانی کی طرف جوابی مضمون اور حق کی فتح قرآن مجید کے کامل شریعت اور حضور کے دعوی کی سچائی کے ان زبردست دلائل کے جواب میں مرزا محمود صاحب زرقانی نے ایک بے ہنگم سا پیسه " اخبار (۱۵/ نومبر ۱۹۰۴ء) میں شائع کرایا جس میں انہوں نے ان دلائل کا رد کرنا تو کجا اکثر کو چھوا تک نہیں۔البتہ دو تین پیشگوئیاں بہاء اللہ کی طرف منسوب کیں جو خود محتاج ثبوت تھیں۔زرقانی صاحب نے اپنے جواب میں سب سے زیادہ زور اس امر پر دیا کہ بہاء اللہ کا ظہور مرزا صاحب سے پہلے ہے اس لئے انہی کو سچاند عی کہنا چاہیے مگر اس کی تردید انہوں نے اپنے قلم سے یوں کر دی کہ "جب حق کے ظہور فرمانے کا زمانہ نزدیک ہوا تو ہندوستان اور دوسرے ملک اور اقلیموں میں بہت سے جھوٹے مدعی۔۔۔کھڑے ہوئے " جس کا ساف نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو مدعی بچے سے پہلے دعوی کرے وہ بہر حال جھوٹا ہی ہوتا ہے۔دہلی میں حضور کے ایک خادم کی مرزا محمود صاحب زرقانی لاہور کے بعد کلکتہ پہنی ، رنگون راولپنڈی اور سیالکوٹ وغیرہ کئی دعوت مباحثہ اور مرزا محمود زرقانی کا گریز شہروں میں مقیم رہ کے بالا خر۱۹۰۶ء میں دہلی گئے تو حضرت مسیح موعود کے ایک مخلص خادم میر قاسم علی صاحب سیکرٹری انجمن احمد یہ دہلی نے ان کو مباحثہ کا چیلنج دیا۔مولوی عبد المجید صاحب دہلوی نے اس کے لئے مکان زینت محل تجویز کیا اور حفظ امن کی خود ذمہ داری اٹھائی اور کہا کہ فریقین مباحثہ کی شرائط طے کر لیں جب تصفیہ ہو چکے تو مجھے اس