تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 347 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 347

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۳۴۴ کامل میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی درد ناک شہادت -۲۴ شهید مرحوم کے چشم دید واقعات "صفحہ ۲۰-۲۶ " عاقبته المذبین صفحه ۵۷-۵۸ ۲۵ بروایت سعرت قاضی محمد یوسف صاحب ٢٦ سيرة المهدی حصہ دوم صفحه ۵۴ شهید مرحوم کے چشم دید واقعات صفحه ۲۵ الفضل ۲۲ مئی ۱۹۸۹ء صفحه ۴-۵ مقاله دوست محمد شاہد الفضل ۴ اکتوبر ۱۹۹۰ء (مکتوب مولانا بشیر احمد خاں صاحب رفیق - انگلستان) ۲۷ حقیقته الوحی طبع اول صفحہ ۲۰۲ -۲۸ حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی چار بیویاں تھیں (الفضل ۲۶/ ماچ ۱۹۳۷ء صفحه ۴ کالم نمبر ۳ ۲۹ الفضل ۱۳/ نومبر ۱۹۲۹ ء صفحہ۔۲ حضرت شاہجہان بی بی صاحبہ کا کیم نومبر ۱۹۲۹ء کو انتقال ہوا۔مرحومہ صوم و صلوۃ کی پابند تھیں۔انہوں نے ورثہ کے ۱/۳حصہ کی وصیت بھی کی تھی۔۳۰۔ان دردانگیز حالات کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو صاحبزادہ ابو الحسن صاحب کا بیان (مطبوعہ الفضل ۲۶ مارچ ۱۹۲۶ء صفحه ۲) این درد کے لئے ابو الفضل ۲۶/ مارچ ۱۹۲۶ صفحه ۳-۴ ۳۲- "Under the Abaaulute Amir"(از فرینک اے مارٹن مطبوعہ ۱۹۰۷ء صفحہ ۲۰۲) ۳۳۔مسٹرا مکس ہملٹن نے لکھا ہے:۔۱۹۰۳ء میں افغانستان کے شہر کاہل اور شمالی و مشرقی صوبہ جات میں زور شور سے ہیضہ پھوٹ پڑا جو اپنی شدت کے سبب سے ۱۸۷۹ء کے وبائی ہیضہ سے بد تر تھا۔سردار نصر اللہ خان کی بیوی اور ایک بیٹا اور خاندان شاہی کے کئی افراد اور ہزار ہا کابلی باشندے اس وباء کا شکار ہوئے اور شہر میں افرا تفری پڑگئی اور ہر شخص کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔" کتاب "افغانستان " بحوالہ عاقبتہ المکذبین صفح۵۷) اس خوفناک ہیضہ کا ذکر مسٹرا مگس ہملٹن کے علاوہ مسٹر فرینک اے مارٹن Frank A Martin نے بھی کیا ہے جو کئی سال تک افغانستان کی حکومت میں چیف انجینئر کے عمدہ پر ممتاز رہ چکے ہیں ملاحظہ ہو Under the Aholute Amir - مطبوعہ ۱۹۰۷ء شائع کردہ ہار پر اینڈ برادر زلندن- نیویارک (صفحه ۱۹۹-۲۰۱) زوال غازی صفحه ۳۸۱-۳۸۶ از عزیز بندی مطبوعہ شائی برقی پریس امر تسر طبع اول -۳۵ زوال غازی صفحه ۳۸-۳۸۶ از عزیز هندی -۳۶- حضرت سید عبد اللطیف صاحب شہید کے حالات اور ان کے بعد کے ملکی انقلابات کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ” عاقبتہ المكذبين " مولفہ حضرت قاضی محمد یوسف صاحب امیر جماعت ہائے پشاور ڈویژن ۳۷۔جو حضرت مولوی عبد اللطیف صاحب شہید کے واقعات میں درج ہو چکے ہیں۔۳۸- تذكرة الشهاد تین صفحه ۷۴-۲۵ ( طبع دوم) خدا کے عجیب تصرفات ہیں کہ ابھی تیسری صدی چھوڑ پہلی صدی بھی ختم نہیں ہوئی کہ مسلمان علماء اور عوام کا ایک مقبول طبقہ حیات اصبح کے عقیدہ سے سراسر بیزار ہو چکا ہے بلکہ اب تو بعض اور مسلمان اداروں کی طرف سے یہ آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں کہ "نزول مسیح کا عقیدہ قرآن کریم سے تو ثابت نہیں۔باقی رہیں روایات تو وہ بھی درایت اور موافق قرآن ہونے کا اصول تو ایک طرف) اصول روایت کے معیار پر بھی پوری نہیں اتر تھیں۔لیزا جب تک یہ غیر قرآنی عقیدہ موجود ہے آپ قادیانی تحریک کو بمشکل شکست دے سکتے ہیں۔قادیانی تحریک یا اسی قسم کی اور تحریکوں کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ امت سے اس قسم کے غیر قرآنی عقائد کو ختم کیا جائے " ارسالہ طلوع اسلام لاہور اگست ۱۹۶۰ء صفحہ ۶۸) یہ تو مسلمانوں کی بیزاری کا اظہار ہے۔جہاں تک عیسائیوں کا تعلق ہے انہوں نے صحیح کے صعود کی آیات الحاقی پا کر انجیل کے متن سے خارج کر دی ہیں۔یہی نہیں ۱۹۵۵ء میں بی بی سی ریڈیو اسٹیشن سے اپر ڈین یونیورسٹی کی ایک لیکچرار کی طرف سے تقریر ہوئی کہ حضرت مسیح واقعی ایک انسان گزرے ہیں جو یہودیوں میں وعظ کیا کرتے تھے۔لیکن یہ ڈھونگ ہے کہ وہ خدا اور کنواری ماں کے بیٹے ہیں یا وہ وفات کے بعد زندہ آسمان پر اٹھ گئے۔" اخبار "نوائے وقت " مورخہ ۲۰/ جنوری ۱۹۵۵ء صفحه ۲ کالم نمبر ۳)