تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 344 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 344

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۴۱ کامل میں حضرت بد اللطیف صاحب کی درد ناک شاد حضور دعا کرتے تھے کہ اس روز حضور کی خدمت میں اطلاع پہنچی کہ عبدالرحیم صاحب کی زندگی کے آثار اچھے نظر نہیں آتے حضور نے تہجد میں دعا کی تو خدا کی وحی سے آپ پر کھلا کہ " تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدر " حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا بیان ہے کہ "میرے آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے بالمواجہ مجھے فرمایا کہ جب خدا تعالی کی یہ وحی نازل ہوئی تو مجھ پر حد سے زیادہ حزن طاری ہوا۔اس وقت بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا کہ یا الی اگر یہ دعا کا موقعہ نہیں تو میں شفاعت کرتا ہوں اس کا موقعہ تو ہے۔اس پر معاومی نازل ہوئی۔یسبح له من في السموت ومن في الارض من ذالذي يشفع عنده الا باذنه - اس جلالی وحی سے میرا بدن کانپ گیا اور مجھ پر سخت خوف اور ہیبت طاری ہوئی کہ میں نے بلا اذن شفاعت کی ہے۔ایک دو منٹ کے بعد پھر وحی ہوئی۔انک انت المجاز۔یعنی تجھے اجازت ہے۔اس کے بعد حالا بعد حال عبد الرحیم کی صحت ترقی کرنے لگی اور اب ہر ایک جو دیکھتا اور پہچانتا تھا ات دیکھ کر خداتعالی کے شکر سے بھر جاتا اور اعتراف کر تا کہ لاریب مردہ زندہ ہوا ہے"۔سیرۃ الابدال کی تصنیف و اشاعت ۱۴ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے "سیرۃ الابدال کے نام سے دسمبر ۱۹۰۳ء میں ایک عربی رسالہ شائع فرمایا۔یہ رسالہ صرف پندرہ صفحات پر مشتمل اور آپ کے عربی رسائل میں سب سے مختصر تھا اور اس میں حضور نے اولیاء و اتقیاء کی تئیس اہم علامات بیان فرما ئیں۔مثلاوہ عین ضرورت زمانہ کے مطابق ظاہر ہوتے ہیں۔انہیں قبل از وقت عروج و کمال کی بشارتیں عطا ہوتی ہیں۔خدمت دین اور رضا الہی ان کا حقیقی مقصود ہوتا ہے۔آسمانی تقدیروں سے وہ پہلے ہی مطلع کئے جاتے ہیں۔وہ منصور ہوتے ہیں۔ان کا فیض صحبت انسانوں کو فضائے روحانیت میں محو پرواز کر دیتا ہے اور ان کے اخلاق مثالی حیثیت رکھتے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔" سيرة الابدال " اس لحاظ سے آپ کی تمام عربی کتابوں سے ممتاز ہے کہ اسے آپ نے نہایت فصیح و بلیغ مگر مشکل عربی عبارت میں لکھا ہے جس سے آپ کی زبر دست اعجازی قوت کا پتہ چلتا ہے۔۱۹۰۳ء کے بعض صحابہ ۱۹۰۳ء کے بعض جلیل القدر صحابہ کے نام یہ ہیں