تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 339
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۳۶ کامل میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی دردناک شہادت دوسرے روز یعنی ۱۵ جولائی کو شہر کابل اور ارد گرد کے علاقوں میں اچانک دوسرا قهری نشان اور خطرناک ہیضہ پھوٹ پڑا جس سے روزانہ کئی اموات ہونے لگیں۔اور لوگوں پر سخت ہیبت طاری ہوئی اور لوگوں نے محسوس کر لیا کہ یہ بلا سید مظلوم کی وجہ سے ہم پر پڑی ہے۔خود سردار نصر اللہ خاں کی بیوی اور نوجوان لڑکا ہیضہ کا شکار ہوئے اور بعض وہ ملا بھی جنہوں نے آپ کے خلاف فتویٰ کفر دیا تھا۔22 تیسرا قهری نشان وہ شریر اہل حدیث پنجابی بھی کیفر کردار کوپہنچے جنہوں نے حضرت شہید کو قیدو بند دلائی اور آخر کار شہید کرو ا دیا۔ان سب کے سرخنے ڈاکٹر عبد الغنی اور اس کے بھائی مولوی نجف علی اور محمد چراغ تھے۔امیر حبیب اللہ خاں نے ان کو نمک حرامی کی سزا میں گیارہ سال تک امیر زنداں کر دیا۔ڈاکٹر عبد الغنی دوران قید میں ہی تھا کہ اس کی بیوی لنڈی کو تل سرائے میں مرگئی اور اس کا نوجوان بیٹا شہر کابل میں دن دہاڑے قتل ہو گیا۔پھر گیارہ سال جیل کاٹنے کے بعد وہ رہا ہوا تو ملک بدر کر دیا گیا۔مولوی نجف علی نادر شاہ کے محمد حکومت میں ایک فارسی منظوم کتاب دره نادره " جس پر عدالت عالیہ نے اسے کا فرد مرتد قرار دیا اور حکم دیا کہ اس کو سنگسار کیا جاوے۔آخر کار سفیر برطانیہ کی مداخلت سے کابل سے اسے ہندوستان واپس جانے کی اجازت ملی۔اس کے ساتھ اس کا بھائی محمد چراغ بھی کابل سے نکال دیا گیا۔حضرت شہید پر فتویٰ دینے والے قاضی عبدالرزاق اور قاضی عبدالروف چوتھا قتری نشان قندھاری تھے۔قاضی عبد الرزاق افسر مدارس اور ملائے حضور کا عہدہ رکھتا تھا۔امیر حبیب اللہ خاں نے ایک جرم کی بناء پر اسے ان سب عہدوں سے بر طرف کر دیا۔اور اسے ایک ہزار روپے جرمانہ کیا۔اس سزا کے بعد وہ کابل سے بالکل غائب ہی ہو گیا۔قاضی عبد الرؤف بھی گمنامی کی حالت میں رخصت ہوا اور اس کا لڑکا اور جانشین قاضی عبد الواسع ۱۹۲۹ء میں نہایت بے رحمی سے ہلاک کیا گیا۔ملاؤں کے فتویٰ کی تکمیل میں ایک بہت بڑا ہاتھ سردار حبیب اللہ خاں کے پانچواں قهری نشان بھائی سردار نصر اللہ خاں کا تھا۔اس نے حضرت شہید کو پابہ جولاں کیا۔اور قید میں رکھا۔یہی سزا اسے ملی۔وہ سردار امان اللہ خاں کے حکم شاہی فرمان سے پابہ جولاں کابل لایا گیا اور اسے نظر بند کیا گیا۔کہتے ہیں کہ اس صدمہ سے اس کا دماغ مختل ہو گیا اور وہ کچھ عرصہ کے بعد رات کے وقت اس برج میں جہاں مقید تھا جس دم کر کے قتل کر دیا گیا اور جس طرح اس نے حضرت