تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 335 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 335

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۳۳۲ کامل میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی درد ناک شہادت آواز بلند تھی۔قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ سے نہایت درجہ عشق تھا۔ہر وقت یاد الہی اور دینی باتوں میں گداز رہتے تھے۔علوم مروجہ پر عبور حاصل ہونے کے علاوہ ایک بلند پایہ عالم ربانی کی حیثیت سے آپ کو جناب الہی سے علوم روحانیہ سے حصہ ملا تھا اور آپ صاحب کشف و الہام تھے۔آپ بڑے مہمان نواز تھے۔آپ کے مہمان خانہ میں ہیں چالیس آدمی ہر وقت رہتے تھے۔قرآن و حدیث کا درس آپ کے یہاں جاری رہتا تھا۔کئی ہزار حدیثیں آپ کو از بریاد تھیں۔آپ بندوق چلانے کے بہت مشاق اور خوب ماہر تھے۔شہادت کے وقت آپ کی عمر ساٹھ ستر برس کے درمیان تھی۔حضرت شہید مرحوم کے بال حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کی شہادت کے بعد سید احمد نور صاحب کاہلی ان کا ایک بال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے پاس قادیان لائے۔حضور نے وہ بال ایک کھلے منہ کی چھوٹی بوتل میں ڈال کر یہ بوتل سر نمبر کر دی اور ناگہ باندھ کر اسے بیت الدعا کی کھونٹی سے لٹکا دیا اور یہ سارا عمل آپ نے ایسے طور پر کیا کہ گویا اسے آپ ایک تبرک خیال فرماتے تھے۔خود حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔ایک بال ان کا اس جگہ پہنچایا گیا جس سے اب تک مشک کی خوشبو آتی ہے اور ہماری بیت الدعا کے ایک گوشہ میں شیشہ میں آویزاں ہے۔" یہ بوتل کئی سال تک بیت الدعا میں لٹکتی رہی۔حضرت سید عبد اللطیف صاحب کے حضرت سید عبد اللطیف صاحب نے اپنی یادگار خاندان پر مظالم اور آپ کی اہلیہ ایک المیہ اور پانچ فرزند چھوڑے۔المیہ اور صاحبہ کا نام شاہجہان بی بی اور صاحبزادوں کے نام اولاد کا قابل رشک صبر اور استقلال یہ تھے (1) صاجزادہ سید محمد سعید صاحب (۲) صاحبزادہ سید عبد السلام صاحب (۳) صاجزادہ سید ابوالحسن صاحب قدسی (۴) صاحبزادہ سید محمد عمر صاحب (۵) صاجزادہ سید محمد طیب صاحب۔حادثہ شہادت کے بعد حکومت افغانستان کی طرف سے آپ کی اہلیہ اور بچوں پر بہت مظالم ڈھائے گئے جن کو سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے مگر انہوں نے قابل رشک صبر و استقلال کا نمونہ دکھایا۔آپ کی اہلیہ ہر موقعہ پر یہی فرماتی رہیں کہ اگر احمدیت کی وجہ سے میں اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے شہید کر دیئے جائیں تو میں اس پر خدا تعالی کی بے حد شکر گزار ہوں گی اور بال پھر بھی اپنے عقائد تبدیل نہ کروں گی۔غرض کہ ان کے سامنے مصائب و آلام کے کوہ گراں آئے لیکن ان کے پائے استقلال کو متزلزل نہ کر سکے صاحبزادہ سید محمد سعید صاحب وسید محمد عمر صاحب انہی مشکلات کی تاب نہ لاکر افغانستان ہی میں