تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 328 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 328

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۲۵ کالم میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی درد ناک شہادت ہو جاؤں گا۔اس پر چھ روز تک پہرہ رہنا چاہئے۔بیان کیا گیا کہ یہ ظلم یعنی سنگسار کرنا ۱۴ / جولائی کو وقوع میں آیا۔اس بیان میں اکثر حصہ ان لوگوں کا ہے جو اس سلسلہ کے مخالف تھے جنہوں نے یہ بھی اقرار کیا کہ ہم نے بھی پتھر مارے تھے۔اور بعض ایسے آدمی بھی اس بیان میں شامل ہیں کہ شہید مرحوم کے پوشیدہ شما گر د تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اس سے زیادہ دردناک ہے جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کیونکہ امیر کے ظلم کو پورے طور پر ظاہر کرنا کسی نے روانہ رکھا۔اور جو کچھ ہم نے لکھا ہے بہت سے خطوط کے مشترک مطلب سے ہم نے خلافتہ لکھا ہے۔ہر ایک قصہ میں اکثر مبالغہ ہوتا ہے لیکن یہ قصہ ہے کہ لوگوں نے امیر سے ڈر کر اس کا ظلم پورا پورا بیان نہیں کیا۔اور بہت سی پردہ پوشی کرنی چاہی۔شاہزادہ عبد اللطیف کے لئے جو شہادت مقدر تھی وہ ہو چکی اب ظالم کا پاداش باقی ہے۔اِنَّهُ مَنْ يَّاتِ رَبَّة مُجْرِ ما فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْى - افسوس که یه امیرزیر آیت من يقتل مومنا متعمدا داخل ہو گیا اور ایک ذرہ خدا تعالی کا خوف نہ کیا اور مومن بھی ایسا مومن کہ اگر کابل کی تمام سرزمین میں اس کی نظیر تلاش کی جائے تو تلاش کرنا لا حاصل ہے ایسے لوگ اکسیر احمد کے حکم میں ہیں جو صدق دل سے ایمان اور حق کے لئے جان بھی فدا کرتے ہیں اور زن و فرزند کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے۔اے عبد اللطیف تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا۔اور جو لوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام HA کریں گے" صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف مرحوم کا اس بے رحمی سے مارا جاتا اگر چہ ایسا امر ہے کہ اس کے سننے سے کلیجہ منہ کو آتا ہے (وَمَا رَتَيْنَا ظُلُما ا غَيْظُ مِنْ هَذَا ، لیکن اس خون میں بہت برکات ہیں کہ بعد میں ظاہر ہوں گے اور کابل کی زمین دیکھ لے گی کہ یہ خون کیسے کیسے پھل لائے گا۔یہ خون کبھی ضائع نہیں جائے گا۔پہلے اس سے غریب عبد الرحمن میری جماعت کا ظلم سے مارا گیا اور خدا چپ رہا مگر اس خون پر اب وہ چپ نہیں رہے گا اور بڑے بڑے نتائج ظاہر ہوں گے۔چنانچہ سنا گیا ہے کہ جب شہید مرحوم کو ہزاروں پتھروں سے قتل کیا گیا تو انہیں دنوں میں سخت ہیضہ کابل میں پھوٹ پڑا اور بڑے بڑے ریاست کے نامی اس کا شکار ہو گئے اور بعض امیر کے رشتہ دار اور عزیز بھی اس جہان سے رخصت ہوئے۔مگر ابھی کیا ہے۔یہ خون بڑی بے رحمی کے ساتھ کیا گیا ہے اور آسمان کے نیچے ایسے خون کی اس زمانہ میں نظیر نہیں ملے گی۔ہائے اس نادان امیر نے کیا کیا کہ ایسے معصوم شخص کو کمال بیدردی سے قتل کر کے اپنے تئیں تباہ کر لیا۔اے کابل کی زمین ! تو گواہ رہ کہ تیرے پر سخت جرم کا