تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 327
اریخ احمدیت جلد ۲ ۳۲۴ کابل میں حضرت سید عبدالہ صاحب کی درد ناک شہادت اور اس میں مولویوں کا فتوئی درج کیا اور اس میں یہ لکھا کہ ایسے کافر کی سنگسار کرنا سزا ہے تب وہ فتویٰ اخوند زادہ مرحوم کے گلے میں لٹکا دیا گیا اور پھر امیر نے حکم دیا کہ شہید مرحوم کے ناک میں چھید کر کے اس میں رسی ڈال دی جائے اور اسی رسی سے شہید مرحوم کو کھینچ کر مقتل یعنی سنگسار کرنے کی جگہ تک پہنچایا جائے۔چنانچہ اس ظالم امیر کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا اور ناک کو چھید کر سخت عذاب کے ساتھ اس میں رسی ڈالی گئی۔(نوٹ از مولف- حضرت مسیح موعود کی خدمت میں جو روایات پہنچیں ان کے مطابق تو واقعہ یہی ہے لیکن بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ناک میں رسی ڈالنے کی بات ہرگز درست نہیں معلوم ہوتا ہے کہ دشمنوں کا یہ خواب شہید مرحوم کے مریدوں نے پوری نہیں ہونے دی) تب اس رسی کے ذریعہ سے شہید مرحوم کو نہایت ٹھٹھے اور نہیں اور گالیوں اور لعنت کے ساتھ مقتل تک لے گئے اور امیر اپنے تمام مصاحبوں کے ساتھ اور مع قاضیوں، مفتیوں اور دیگر اہل کاروں کے یہ درد ناک نظارہ دیکھتا ہو ا مقتل تک پہنچا اور شہر کی ہزار ہا مخلوق جن کا شمار کرنا مشکل ہے اس تماشا کے دیکھنے کے لئے گئی۔جب مقتل پر پہنچے تو شہزادہ مرحوم کو کمر تک زمین میں گاڑ دیا اور پھر اس حالت میں جب کہ وہ کمر تک زمین میں گاڑ دیئے گئے تھے امیر ان کے پاس گیا اور کہا کہ اگر تو قادیانی سے جو مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا ہے انکار کرے تو اب بھی تجھے بچا لیتا ہوں۔اب تیرا آخری وقت ہے اور یہ آخری موقعہ ہے جو تجھے دیا جاتا ہے اور اپنی جان اور اپنے عیال پر رحم کر۔تب شہید مرحوم نے جواب دیا۔نعوذ باللہ سچائی سے کیونکر انکار ہو سکتا ہے اور جان (کی) کیا حقیقت ہے اور عیال و اطفال کیا چیز ہیں جنکے لئے میں ایمان کو چھوڑ دوں۔مجھ سے ایسا ہرگز نہیں ہو گا اور میں حق کے لئے مروں گا۔تب قاضیوں اور فقیہوں نے شور مچایا کہ کافر ہے کافر ہے اس کو جلد سنگسار کرو۔اس وقت امیر اور اس کا بھائی نصر اللہ خاں اور قاضی اور عبدالاحد کمیدان یہ لوگ سوار تھے اور باقی تمام لوگ پیادہ تھے۔جب ایسی نازک حالت میں شہید مرحوم نے بار بار کہہ دیا کہ میں ایمان کو جان پر مقدم رکھتا ہوں تب امیر نے اپنے قاضی کو حکم دیا کہ پہلا پتھر تم چلاؤ کہ تم نے کفر کا فتویٰ لگایا ہے اور قاضی نے کہا کہ آپ بادشاہ وقت ہیں آپ چلا دیں۔تب امیر نے جواب دیا کہ شریعت کے تم ہی بادشاہ ہو اور تمہارا ہی فتویٰ ہے اس میں میرا کوئی دخل نہیں۔تب قاضی نے گھوڑے سے اتر کر ایک پتھر چلایا۔جس پتھر سے شہید مرحوم کو زخم کاری لگا اور گردن جھک گئی۔پھر بعد اس کے بد قسمت امیر نے اپنے ہاتھ سے پتھر چلایا پھر کیا تھا اس کی پیروی سے ہزاروں پتھر اس شہید پر پڑنے لگے اور کوئی حاضرین میں سے ایسا نہ تھا جس نے اس شہید مرحوم کی طرف پتھر نہ پھینکا ہو۔یہاں تک کہ کثرت پتھروں سے شہید مرحوم کے سر پر ایک کو ٹھہ پتھروں کا جمع گیا۔پھر امیر نے واپس ہونے کے وقت کہا کہ یہ شخص کہتا تھا کہ میں چھ روز تک زندہ