تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 323
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ کابل میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی درد ناک شہادت ہیں کہ جب وہ وطن کی طرف روانہ ہوئے تو بار بار کہتے تھے کہ کابل کی زمین اپنی اصلاح کے لئے میرے خون کی محتاج ہے۔اور در حقیقت وہ سچ کہتے تھے کیونکہ سر زمین کابل میں اگر ایک کرو ڑ اشتہار شائع کیا جاتا اور دلائل قویہ سے میرا مسیح موعود ہونا ان میں ثابت کیا جاتا تو ان اشتہارات کا ہرگز ایسا اثر نہ ہوتا جیسا کہ اس شہید کے خون کا اثر ہوا۔کابل کی سرزمین پر یہ خون اس تخم کی مانند پڑا ہے جو تھوڑے عرصہ میں بڑا درخت بن جاتا ہے اور ہزار ہا پرندے اس پر اپنا بیسرا لیتے ہیں۔اب ہم اس دردناک واقعہ کا باقی حصہ اپنی جماعت کے لئے لکھ کر اس مضمون کو ختم کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب چار مہینے قید کے گزر گئے تب امیر نے اپنے رو برو شہید مرحوم کو لا کر پھر اپنی عام کچری میں تو بہ کے لئے فہمائش کی اور بڑے زور سے رغبت دی کہ اگر تم اب بھی قادیانی کی تصدیق اور اس کے اصولوں کی تصدیق سے میرے رو برو انکار کرو تو تمہاری جان بخشی کی جائے گی اور تم عزت کے ساتھ چھوڑے جاؤ گے۔شہید مرحوم نے جواب دیا کہ یہ تو غیر ممکن ہے کہ میں سچائی سے تو بہ کروں۔اس دنیا کے حکام کا عذاب تو موت تک ختم ہو جاتا ہے لیکن میں اس سے ڈرتا ہوں جس کا عذاب کبھی ختم نہیں ہو سکتا ہاں چونکہ میں سچ پر ہوں اس لئے چاہتا ہوں کہ ان مولویوں سے جو میرے عقیدے کے مخالف ہیں میری بحث کرائی جائے۔اگر میں دلائل کے رو سے جھوٹا نکلا تو مجھے سزاد کی جائے راوی اس قصہ کے کہتے ہیں کہ ہم اس گفتگو کے وقت موجود تھے۔امیر نے اس بات کو پسند کیا اور مسجد شاہی میں خان ملا خان اور آٹھ مفتی بحث کے لئے منتخب کئے گئے اور ایک لاہوری ڈاکٹر جو خود پنجابی ہونے کی وجہ سے سخت مخالف تھا بطور ثالث کے مقرر کر کے بھیجا گیا۔بحث کے وقت مجمع کثیر تھا اور دیکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم اس بحث کے وقت موجود تھے۔مباحثہ تحریری تھا صرف تحریر ہوتی تھی اور کوئی بات حاضرین کو سنائی نہیں جاتی تھی اس لئے اس مباحثہ کا کچھ حال معلوم نہیں ہوا۔سات بجے صبح سے تین بجے سہ پہر تک مباحثہ جاری رہا۔پھر جب عصر کا آخری وقت ہوا تو کفر کا فتویٰ لگایا گیا اور آخر بحث میں شہید مرحوم سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر مسیح موعود یہی قادیانی شخص ہے تو پھر تم عیسی علیہ السلام کی نسبت کیا کہتے ہو کیا وہ واپس دنیا میں آئیں گے یا نہیں؟ تو انہوں نے بڑی استقامت سے جواب دیا کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اب وہ ہر گز واپس نہیں آئیں گے۔قرآن کریم ان کے مرنے اور نہ آنے کا گواہ ہے۔تب تو وہ لوگ ان مولویوں کی طرح جنہوں نے حضرت عیسی کی بات کو سن کر اپنے کپڑے پھاڑ دیئے تھے گالیاں دینے لگے اور کہا اب اس شخص کے کفر میں کیا شک رہا اور بڑی غضب ناک حالت میں یہ کفر کا فتویٰ لکھا گیا۔پھر بعد اس کے اخوند زادہ حضرت شهید مرحوم اسی طرح پابہ زنجیر ہونے کی حالت میں قید خانہ میں بھیجے گئے۔