تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 322 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 322

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ٣١٩ کالم میں حضرت ماحب کی دردناک شہادت کابل کے امیروں کا یہ طریق نہیں ہے کہ اس قدر بار بار وعدہ معافی دے کر ایک عقیدہ کے چھڑانے کے لئے توجہ دلائیں۔لیکن مولوی عبد اللطیف صاحب مرحوم کی یہ خاص رعایت اس وجہ سے تھی کہ وہ ریاست کابل کا گویا ایک بازو تھا اور ہزار ہا انسان اس کے معتقد تھے۔اور جیسا کہ ہم اوپر لکھ چکے ہیں وہ امیر کابل کی نظر میں اس قدر منتخب عالم فاضل تھا کہ تمام علماء میں آفتاب کی طرح سمجھا جاتا تھا۔پس ممکن ہے کہ امیر کو بجائے خود یہ رنج بھی ہو کہ ایسا برگزیدہ انسان علماء کے اتفاق رائے سے ضرور قتل کیا جائے گا۔اور یہ تو ظاہر ہے کہ آجکل ایک طور سے عنان حکومت کابل کی مولویوں کے ہاتھ میں ہے اور جس بات پر مولوی لوگ اتفاق کرلیں پھر ممکن نہیں کہ امیر اس کے برخلاف کچھ کر سکے۔پس یہ امر قرین قیاس ہے کہ ایک طرف اس امیر کو مولویوں کا خوف تھا اور دوسری طرف شہید مرحوم کو بے گناہ دیکھتا تھا۔پس یہی وجہ ہے کہ وہ قید کی تمام مدت میں یہی ہدایت کر تا رہا کہ آپ اس شخص قادیانی کو مسیح موعود مت مانیں اور اس عقیدہ سے توبہ کر لیں تب آپ عزت کے ساتھ رہا کر دیے جاؤ گے۔اور اسی نیت سے اس نے شہید مرحوم کو اس قلعہ میں قید کیا تھا جس قلعہ میں وہ آپ رہتا تھا تا متواتر فہمائش کا موقعہ ملتا ر ہے۔اور اس جگہ ایک اور بات لکھنے کے لائق ہے اور دراصل وہی ایک بات ہے جو اس بلا کی موجب ہوئی اور وہ یہ ہے کہ عبد الرحمن شہید کے وقت سے یہ بات امیر اور مولویوں کو خوب معلوم تھی کہ قادیانی جو مسیح موعود کا دعویٰ کرتا ہے جہاد کا سخت مخالف ہے اور اپنی کتابوں میں بار بار اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس زمانہ میں تلوار کا جہاد درست نہیں۔اور اتفاق سے اس امیر کے باپ نے جہاد کے واجب ہونے کے بارے میں ایک رسالہ لکھا تھا جو میرے شائع کردہ رسالوں کے بالکل مخالف ہے اور پنجاب کے شرانگیز بعض آدمی جو اپنے تئیں موحد یا اہل حدیث کے نام سے موسوم کرتے تھے امیر کے پاس پہنچ گئے تھے۔غالبا ان کی زبانی امیر عبدالرحمن نے جو امیر حال کا باپ تھا میری ان کتابوں کا مضمون سن لیا ہو گا اور عبدالرحمن شہید کے قتل کی بھی یہی وجہ ہوئی تھی کہ امیر عبدالرحمن نے خیال کیا تھا کہ یہ اس گروہ کا انسان ہے جو لوگ جہاد کو حرام جانتے ہیں۔اور یہ بات یقینی ہے کہ قضا و قدر کی کشش سے مولوی عبد اللطیف مرحوم سے بھی یہ غلطی ہوئی کہ اس قید کی حالت میں بھی جتلا دیا کہ اب یہ زمانہ جہاد کا نہیں اور وہ مسیح موعود جو در حقیقت مسیح ہے اس کی یہی تعلیم ہے کہ اب یہ زمانہ دلائل کے پیش کرنے کا ہے تلوار کے ذریعہ سے مذہب کو پھیلانا جائز نہیں۔اور اب اس کا پودا ہر گز بار آور نہیں ہو گا بلکہ جلد خشک ہو جائے گا۔چونکہ شہید مرحوم سچ کے بیان کرنے میں کسی کی پروا نہیں کرتے تھے اور در حقیقت ان کو سچائی کے پھیلانے کے وقت اپنی موت کا بھی اندیشہ نہ تھا اس لئے ایسے الفاظ ان کے منہ سے نکل گئے۔اور عجیب بات یہ ہے ان کے بعض شاگر د بیان کرتے