تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 319
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ کابل میں حضرت سیدہ عبد اللطیف صاحب کی درد ناک شہادت جمعہ کے بعد ایک لطیف وعظ فرمایا۔بعد ازاں باہر تشریف لے گئے اور کچھ کتابیں خرید کر ان کی جلدیں بند ھوا ئیں۔جب تمام کتابیں مجلد ہو گئیں تو لاہور سے بذریعہ ریل کو ہاٹ پہنچے۔اس سفر میں آپ کا معمول تلاوت قرآن ہی رہا۔کو ہات سے آپ بذریعہ تم تم بنوں پہنچے۔پھر دو ایک روز قیام کے بعد علاقہ خوست کی طرف روانہ ہوئے راستہ میں آپ کو الہام ہوا۔"اذهب الى فرعون۔" مراجعت وطن مباحثہ اور شہادت کے اس کے بعد کیا ہوا؟ کس طرح شہادت کا درد انگیز واقعہ کی تفصیل حضرت مسیح دردانگیز واقعہ پیش آیا؟ اس کی تفصیل خود حضرت اقدس علیہ السلام کے قلم مبارک سے موعود علیہ السلام کے قلم سے درج کی جاتی ہے فرماتے ہیں۔" مولوی صاحب خوست علاقہ کابل سے قادیان میں اگر کئی مہینہ میرے پاس اور میری صحبت میں رہے۔پھر بعد اس کے جب آسمان پر یہ امر قطعی طور پر فیصلہ پاچکا کہ وہ درجہ شہادت پادیں تو اس کے لئے یہ تقریب پیدا ہوئی کہ وہ مجھ سے رخصت ہو کر اپنے وطن کی طرف واپس تشریف لے گئے۔اب جیسا کہ معتبر ذرائع سے اور خاص دیکھنے والوں کی معرفت مجھے معلوم ہوا ہے قضاء و قدر سے یہ صورت پیش آئی کہ مولوی صاحب جب سرزمین علاقہ کابل کے نزدیک پہنچے تو علاقہ انگریزی میں ٹھر کر بریگیڈیر محمد حسین کو توال کو جو ان کا شاگرد تھا ایک خط لکھا کہ اگر امیر صاحب سے میرے آنے کی اجازت حاصل کر کے مجھے اطلاع دیں تو امیر صاحب کے پاس بمقام کابل میں حاضر ہو جاؤں۔بلا اجازت اس لئے تشریف نہ لئے گئے کہ وقت سفر امیر صاحب کو یہ اطلاع دی تھی کہ میں حج کو جاتا ہوں مگر وہ ارادہ قادیان میں بہت دیر تک ٹھہرنے سے پورا نہ ہو سکا اور وقت ہاتھ سے جاتا رہا۔اور چونکہ وہ میری نسبت شناخت کر چکے تھے کہ یہی شخص مسیح موعود ہے اس لئے میری صحبت میں رہنا ان کو مقدم معلوم ہوا۔اور ہمو جب نص اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول حج کا ارادہ انہوں نے کسی دوسرے سال پر ڈال دیا۔اور ہر ایک دل اس بات کو محسوس کر سکتا ہے کہ ایک حج کے ارادہ کرنے والے کے لئے اگر یہ بات پیش آجائے کہ وہ اس مسیح موعود کو دیکھ لے جس کا تیرہ سو برس پہلے اہل اسلام میں انتظار ہے تو ہمو جب نص صریح قرآن اور احادیث کے وہ بغیر اس کی اجازت کے حج کو نہیں جاسکتا۔ہاں بااجازت اس کے دوسرے وقت میں جا سکتا ہے۔غرض چونکہ وہ مرحوم سید الشہداء اپنی صحت نیت سے حج نہ کر سکا اور قادیان میں ہی دن گزر گئے۔تو قبل اس کے کہ وہ سرزمین کابل میں وارد ہوں اور حدود ریاست کے اندر قدم رکھیں احتیاطا قرین مصلحت سمجھا کہ انگریزی علاقہ میں رہ کر امیر کابل پر اپنی سرگذشت کھول دی جائے کہ اس طرح پر حج کرنے سے معذوری پیش آئی۔انہوں نے مناسب