تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 311 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 311

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۷۲ الید ۲۸/ اگست ۱۹۰۳ء صفحه ۲۵۶ کالم ۲۱ مونوی کرم دین صاحب کا دو سرا طویل مقدمه ۷۳- حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقیقتہ الوہی میں تحفہ گولڑویہ کی بجائے تریاق القلوب لکھا ہے جو سہو ہے۔جیسا کہ عدالت کی مصدقہ نقل سے ثابت ہے کہ یہ تحفہ گولڑویہ سے متعلق ہی سوال تھا۔ایک فیصلہ کن واقعاتی ثبوت اس امر کا یہ بھی ہے کہ صفحه ۴۸ تا ۵۰ تک کا زیر بحث مضمون تریاق القلوب میں نہیں تحفہ گولڑویہ میں ہے۔علاوہ ازیں یہ کہ یکم معتبر ۱۹۰۲ء تحفہ گولڑ دیہ کی تاریخ اشاعت ہے نہ کہ تریاق القلوب کی۔۷۴- مسیرت المہدی حصہ دوم میں صفحہ ۱۷ پر مزید سوالات کے جوابات بھی شائع ہو چکے ہیں۔حقیقته الوحی صفحه ۲۶۶ ( طبع اول) البدر ۲۸/ اگست ۱۹۰۳ء صفحه ۳۵۶ کالم ۲ و البدر ۱۴ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۵۸ کالم ۲ اخبار "وطن" ۲۸/ اگست ۱۹۰۳ء صفحه ۷ -46 کائم تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو نقل مسل مقدمہ و الحکم ۱۷/ جنوری ۱۹۰۴ء صفحه ۳-۵ ۷۸ نقل مسل مقدمه ۷۹ نقل مصدقہ مسل موادی کرم دین صاحب کی زندگی کے آخری سال انتہائی دکھ میں گزرے اور کئی قسم کی ذلتیں انہیں اٹھانا پڑیں مثلا ۱۹۴۰ء میں انہوں نے ایک ساس اور داماد کا نکاح پڑھا جس پر ان کے گاؤں تھیں اور گردو نواح میں شور پڑ گیا اور انہی کے ہم عقیدہ مشہور علماء نے ان کے مقابلہ پر موضع تھیں جلسہ کیا جس میں دو سو افراد نے مولوی کرم دین صاحب کے عذرات کے بارے میں صفا گواہی دی کہ "مولوی کرم دین کی طرف رائی کے دانے کے برابر بھی صداقت نہیں بلکہ بناوت ہے جو طمع نفسانی کی خاطر ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔جلسہ میں لوگوں نے بکثرت یہ شکایت کیں کہ فلاں جگہ میں مولوی کرم دین نے نکاح پر نکاح پڑھا ہے۔ایک عالم نے دوران تقریر کہا کہ "مولوی کرم دین صاحب نے کس قدر تعصب اور عناد سے کام لیا ہے کہ خواہ مخواہ اہل السنہ والجماعت کے لوگوں کو شیعہ قرار دیا اور علماء کرام کو دھو کہ وا۔۔۔العنه الله على الكاذبين " جلسہ کے بعد علماء نے مولوی کرم دین صاحب سے مناظرہ بھی کیا۔مناظرہ کے بعد ان کو ”نگ اسلام " قرار دیتے ہوئے فتویٰ دیا گیا کہ اگر وہ عوام کے سامنے تو بہ نصوح نہ کریں تو دینی و دنیاوی معاملات میں نشست و برخاست علیک سلیک حرام قطعی ہے۔اشتهار بعنوان "ننگ اسلام مولوی محمد کرم الدین صاحب کی عبرت آموز شکست) از قاضی محمد عابد کر تھی متصل نھیں مطبوعہ د سٹیم پریس راولپنڈی ( یہ اشتہار خلافت لائبریری میں موجود ہے)۔اس واقعہ کے اگلے سال ۷۶۔جولائی ۱۹۴۱ء کی رات کو ڈو من تحصیل چکوال میں ان کا بیٹا مولوی منظور حسین چکوال کے ایس ڈی او کو قتل کر کے فرار ہو گیا جس پر پولیس نے مولوی کرم دین صاحب کو ۲۱۔جولائی ۱۹۴۱ء کو ڈھاب کلاں تحصیل چکوال میں گرفتار کر لیا اور اسے شہر شہر لئے پھرتی رہی اور ان کی بیوی بھی کئی دن تک پولیس کی تحویل میں رہی۔آخر جب مولوی منظور حسین کا کچھ سراغ نہ ملا تو ۲۵/ جولائی ۱۹۴۲ء کو مولوی کرم دین صاحب کی جائداد کی ضبطی یا نیلامی کا حکم دے دیا گیا تا دہشت زدہ ہو کردہ اپنا لڑ کا ناضر عدالت کر دیں مگر ان کالر کا ۲۹ نومبر ۱۹۴۲ء کو بنوں پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہو گیا چنانچہ اخبار " پر بھات " میں یہ خبر شائع ہوئی۔"مسٹر چوہدری آئی۔سی۔ایس (SDG) چکوال کا ۶/۷/۴ کی درمیانی رات بمقام ڈر مین تحصیل چکوال میں قتل ہوا۔اس کے قاتل عبد العزیز ولد حیات محمد اور منظور حسین ولد کرم دین تھیں تھے۔ہر دو قاتل غیر علاقہ میں چلے گئے تھے۔تقریباً ایک سال بعد بنوں میں پولیس سے مڈ بھیڑ ہو گئی۔منظور حسین اس لڑائی میں مارا گیا۔" ہارو ان پے در پے صدمات نے ان کی کمر با لکل تو ڑ دی اور وہ بالا خر ۱۹۴۶ء میں حافظ آباد میں ایک چھت کی منڈیر سے گر کر ملک عدم کو سے گر کر چل ہے۔(الفضل ۱۳ جون ۱۹۵۲ء صفحہ سے کالم۔مضمون خواجہ محمد شفیع صاحب وکیل چکوال) الحاکم ۲۱۔فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴ کالم ۲ ۸۲ البدر ۱۳ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۲۵ البد ر ۲۰ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۳۸ ۸۳ نیم دعوت صفحه ۱ - ۲