تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 310
۳۰۷ مولوی کرم دین صاحب کا دوسرا طویل مقدمہ تاریخ احمد بیت - جلد ؟ ۵۰ سراج الاخبار بحوالہ اخبار "وطن ہی ہور ۲۸ / اگست ۱۹۰۳ء صفحه ۷ (اصل اخبار خلافت لائبریری میں موجود ہے) ۰۵۱ الحکم ۲۴ ستمبر ۱۹۰۴ ء صفحہ ۷ کالم ۴ والبدر ۱۸ ستمبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۲ کالم ۳ الحکم ۳۰/ نمبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۷ کالم ۲-۳ ۵۳ - الحکم ۳۰ ستمبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۷ کالم ۲-۳ ۵۴ بحوالہ حضرت حافظ روشن علی صاحب (الحکم ۲۶/ مئی ۱۹۳۵ء صفحه ۱۶ کالم (۳) ۵۵- مسجد داعظم جلد دوم صفحہ ۱۹۷۷ پر بعض احباب کا یہ بیان لکھا ہے کہ کسی پرانے موکل نے خواجہ صاحب کو اسی روز سات سو روپے ان کی بقایا فیس کے ان کے عدالت میں داخل ہونے سے تین دن تحمل دئے۔الخ یہ بیان درست نہیں۔چنانچہ مورخ احمدیت حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی لکھتے ہیں۔خواجہ کمال الدین مرحوم کے سات سو روپیہ کا قصہ محض غلط ہے۔یہ سات سو نواب صاحب ہی کے روپے کا ایک جزو تھا اور احتیاطا خواجہ صاحب کو ایک ہزار دیا گیا تھا کہ امید یہی تھی کہ پانچ پانچ سو جرمانہ کرے اور ایک ہزار اور محفوظ رکھا گیا کہ ممکن ہے ہزار ہزار کر دے۔" ( اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۴۶۳) ۵۶- مجدد اعظم جلد دوم صفحه ۹۷۶-۹۷۷ ۵۷ حقیقته الوحی صفحه ۲۱ طبع اول انشان نمبر ۲۸ ۵۸- حقیقته الوحی صفحه ۱۲۱ - ۲۲۲ ۵۹- تفسیر کبیر (النور ) صفحه ۳۵۹ کالم ۲ الحکم ۱۲۲ مئی ۱۹۰۲ ء صفحہ ۲ کالم البدر یکم اگست ۱۹۰۴ ء کالم ۳ از مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ السلام بنام نواب محمد علی خان صاحب مورخه ۲۰ / دسمبر ۱۹۱۶ء مشمولہ "مکتوبات احمد یہ " جلد ہفتم حصہ اول صفحه ۵۳ - ۵۴ مفصل فیصلہ کے لئے ملاحظہ ہو الحکم ۲۴/ جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ ۷۔۸ ۶ - البدر یکم فروری ۱۹۰۵ء صفحه ۵ کالم ۲ ۱۳ حقیقته الوحی صفحه ۱۲۲۱۲۱ ۷۵- ایک غیر احمدی مولوی سمیع اللہ فاروقی صاحب مولوی کرم دین اور مسٹر آتمارام سے متعلق حضور کی پیش گوئی کے پورے ہونے کا اعتراف بایں الفاظ کرتے ہیں۔”مولوی کرم دین صاحب نے مرزا صاحب کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی کا ایک دعوئی گورداسپور کی عدالت میں دائر کیا۔بنائے دعوئی مرزا صاحب کے یہ الفاظ تھے جو انہوں نے مولوی کرم دین کے خلاف استعمال کئے تھے یعنی تقسیم اور کذاب عدالت ابتدائی نے مرزا صاحب کو ملزم قرار دیتے ہوئے سزا دے دی لیکن مرزا صاحب کو اطلاع ملی "ہم نے تمہارے لئے لوہے کو نرم کر دیا۔ہم کسی اور معنی کو پسند نہیں کرتے ان کی کوئی شہادت قبول نہیں کی جائے گی۔" اس کے بعد مرزا صاحب نے اپیل دائر کی جس پر صاحب ڈویژنل جج نے لکھا کہ "کذاب اور لٹیم کے الفاظ کرم دین کے حسب حال ہیں۔چنانچہ مرزا صاحب کو بری کر دیا۔" محولہ بالا مقدمہ مجسٹریٹ سماعت کنندہ مسٹر آتما رام کے متعلق مرزا صاحب کو اطلاع ملی کی اتمار ام اپنی اولاد کے ماتم میں مبتلا ہو گا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں پچیس دن کے عرصہ میں یکے بعد دیگرے اس کے دو بیٹے وفات پاگئے۔" ( اظہار حق صفحہ ۲۰۱۲۱) ۶۹ - الحکم ۷ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ کالم ۲ البدر ۲۹ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۴۹ کالم ۳ ۶۸ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو مسل مصدقہ الحکم ۷ ا/ اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۹ کالم ! البدر ۲۸/ اگست ۱۹۰۳ء صفحه ۲۵۶ کالم ۱-۲ حقیقته الوحی صفحه ۲۶۵-۲۶۱ اے سیرۃ المہدی حصہ اول صفحه ۲۴