تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 307 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 307

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۰۴ مولوی کرم دین صاحب کا دوسرا طویل مقدمه حالت میں بیت الدعا میں نماز میں اس کالج کے لئے بہت دعا کی۔غالبا آپ کا وہ وقت اور میری دعاؤں کا وقت ایک ہی ہو گا۔خدا تعالیٰ قبول فرما دے۔کالج کا اسٹاف کالج کا ابتدائی اشاف یہ تھا۔الم حضرت مولوی شیر علی صاحب (پرنسپل و پروفیسر انگریزی) -۲ حضرت مفتی محمد صادق صاحب نیجرو پروفیسر منطق و سپرنٹنڈنٹ) حضرت حکیم مولوی عبید اللہ صاحب نبل (پروفیسر فارسی) حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب (پروفیسر دینیات) - حضرت مولوی عبد الکریم صاحب (پروفیسر ادب عربی) مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے (پروفیسر ریاضی) مئوخر الذکر تینوں اصحاب محض آنریری طور پر یہ خدمت سر انجام دیتے تھے۔( کالج میں تاریخ کا مضمون بھی تھا مگر اس کے پروفیسر کون تھے اس کا علم نہیں ہو سکا) کالج کے ڈائریکٹر جیسا کہ اوپر آچکا ہے حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کالج کے ڈائریکٹر تھے جن کا قریباً سارا وقت کالج کے لئے وقف تھا۔آپ سکول کے علاوہ کالج کو بھی گراں قدر عطیہ دیتے تھے بلکہ کالج کی بہت سی ضروریات کے کفیل آپ ہی تھے۔ابتدائی طلبہ کالج کے بعض ابتدائی طلبہ کے نام یہ ہیں (حافظ صوفی) غلام محمد صاحب ( مبلغ ماریشس) ڈاکٹر غلام محمد صاحب (ایم۔بی۔بی۔ایس۔لاہور۔غیر مبائع) شیخ عالم دین صاحب (بی۔اے۔ایل۔ایل۔بی۔شیخوپورہ۔غیر مبائع) مولوی محمد الدین صاحب (حال صدر صدر انجمن احمد یہ ربوہ) نے بھی چند روز تک اس ادارہ میں پرائیوٹ طور پر تعلیم حاصل کی۔حضرت مولوی محمد الدین صاحب کی یادداشت کے مطابق در زی خانہ والا کمرہ کلاس روم تھا مگر اس کے علاوہ پرانے صحن مدرسہ کا مشرقی کمرہ بھی استعمال ہو تا رہا ہے۔کالج میں کوئی فیس نہیں لی جاتی تھی۔" تعلیم الاسلام کالج دو سال تک برابر کامیابی سے چلتا رہا۔اس کے نتائج بھی عمدہ تھے مگر حکومت کے کالج یونیورسٹی کمیشن کی کڑی شرائط کے باعث اسے بند کر دینا پڑا۔تاہم حضرت امام الزمان علیہ السلام کی دعائیں قریباً چالیس سال بعد پھر رنگ لائیں اور ۱۹۴۴ء میں قادیان میں ہی اس کا دوبارہ اجراء عمل میں آیا۔