تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 306
تاریخ احمدیت جلد ۲ ٣٠٣ مولوی کرم دین صاحب کا دوسرا طویل مقدر نظریں دروازے کی طرف اپنے محبوب آقا کے استقبال کے لئے لگی ہوئی تھیں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے کھڑے ہو کر حضرت اقدس کا پیغام سنایا۔اور یہی پیغام جلسہ کی افتتاحی تقریر کہنا چاہئیے۔انہوں نے فرمایا۔" حضرت اقدس نے مجھے ایک پیغام دے کر روانہ کیا ہے۔میں نے خلیفہ اللہ علیہ السلام کی خدمت میں تشریف آوری کے واسطے عرض کی تھی آپ نے فرمایا کہ میں اس وقت بیمار ہوں حتی کہ چلنے سے بھی معذور ہوں لیکن وہاں حاضر ہونے سے بہت بہتر کام یہاں کر سکتا ہوں کہ ادھر جس وقت افتتاح کا جلسہ ہو گا میں بیت الدعا میں جا کر دعا کروں گا۔یہ کلمہ اور وعدہ حضرت خلیفہ اللہ علیہ السلام کا بہت خوش کن اور امید دلانے والا ہے۔اگر آپ خود تشریف لاتے تو بھی باعث برکت تھا اور اگر اب نہیں لائے تو دعا فرما دیں گے اور یہ بھی خیرو برکت کا موجب ہوگی۔" حضرت مولوی صاحب اس قدر تقریر فرما کر کرسی پر بیٹھ گئے۔پھر حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب کی صدارت میں جلسہ کی باضابطہ کارروائی شروع ہوئی۔اولاً تعلیم الاسلام کالج کے ڈائریکٹر حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے مختصری تقریر فرمائی جس میں بتایا کہ سکول نے جو فوق العادت ترقی کی ہے وہ حضرت مسیح موعود کی دعاؤں کا نتیجہ ہے تاہم ظاہری اسباب کے لحاظ سے طلبہ ان کے والدین اور دوسرے احباب کو اس کی مالی اعانت میں ضرور حصہ لینا چاہئے۔حضرت نواب صاحب کے بعد حضرت حکیم الامت نے نہایت لطیف اور با موقع برجسته صدارتی خطاب فرمایا۔چنانچہ آپ نے میز پر رکھے ہوئے قرآن مجید اور کرہ ارضی نیز سائبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نصیحت فرمائی کہ تم کو اس قرب الھی کے حاصل کرنے کی ضرورت ہے جس سے عرب کی نابود ہستی بود ہو کر نظر آئی وہ ذریعہ قرآن کریم ہے کہ جس سے اس کرہ پر ان کو حکمرانی حاصل ہوئی تھی۔مگر اس کے ساتھ ہی اصل جڑھ یہ تھی کہ فضل الھی کا سائبان بھی ان پر تھا۔کالج کی اصل غرض یہی ہے کہ دینی و دنیوی تربیت ہو مگر اول فضل کا سایہ ہو پھر کتاب پر دستور العمل ہو۔اس کے بعد دیکھو کہ کیا کامیابی ہوتی ہے۔اللہ تعالی تم کو توفیق دے کہ فضل خدا کا سایہ تم پر ہو۔اس کی کتاب دستور العمل ہو۔کرہ زمین پر عزت سے زندگی بسر کرو۔حضرت حکیم الامت کی اس تقریر کے بعد مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب اور مولوی عبد اللہ صاحب نے نظمیں پڑھیں۔بعد ازاں دعا پر یہ افتتاحی رسم ختم ہوئی۔جلسہ کے بعد حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں جلسہ کامیابی سے اختتام پذیر ہونے کی اطلاع دی تو حضور نے جو ابا تحریر فرمایا کہ رات سے مجھ کو دل کے مقام پر درد ہوتی تھی اس لئے حاضر نہیں ہو سکا۔لیکن میں نے اسی