تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 305 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 305

تاریخ احمدیت جلد ۲ مولوی کرم دین صاحب کا دوسرا طویل مقدمه اٹھائے اور اسی سے قوت پانے کے واسطے ایک الگ حجرہ بنایا اور خدا سے دعا کی کہ اس مسجد الیت اور بیت الدعا کو امن اور سلامتی اور اعداء پر بذریعہ دلائل نیرہ اور براہین ساطعہ کے فتح کا گھر بنادے۔" AS اس کمرہ کے سب اخراجات حضور کے مخلص مرید شیخ رحمت اللہ صاحب کمرہ کے اخراجات مالک بیٹی ہاؤس لاہور نے ادا کئے۔و تعلیم الاسلام کالج کا افتتاح مدرسہ تعلیم الاسلام جس کا آغاز یکم جنوری ۱۸۹۸ء کو پرائمری سکول سے ہوا تھا فروری ۱۹۰۰ء میں ہائی سکول بنا۔اس کے تین سال بعد ترقی دے کر کالج بنا دیا گیا جو تعلیم الاسلام کالج " کے نام سے موسوم ہوا۔تعلیم الاسلام کالج " کا افتتاح ۱۵۔مئی ۱۹۰۳ء کو قرار پایا تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ناسازی طبع کے باعث ۲۸۔مئی ۱۹۰۳ء کی تاریخ مقرر کی گئی۔یہ موجودہ دنیا میں غالبا پہلا کالج تھا جس کی افتتاحی تقریب ہر قسم کی عرفی رسومات سے بالکل منزہ تھی۔اس موقعہ پر اگر کالج کی طرف سے حکام کو دعوت دی جاتی تو وہ ضرور شریک ہوتے۔مگر ایک ایسے مذہبی کالج کے افتتاح پر جس کے قیام کی واحد غرض اسلامی عظمت اور مذہبی تعلیم کی اشاعت ہے حکام کی شمولیت محض تکلف کبھی گئی۔چنانچہ نہ اس میں دعوت کے کارڈ جاری ہوئے نہ اس میں کسی پارٹی کا اہتمام کیا گیا بلکہ سیدھے سادھے طریق پر محض دعا کے لئے ایک جلسہ کا انتظام کیا گیا۔۲۸۔مئی ۱۹۰۳ء کو صبح ساڑھے چھ بجے کے بعد احاطہ سکول میں بورڈنگ ہاؤس اور اس کے درمیانی میدان میں ایک شامیانہ نصب کیا گیا۔شامیانہ کے نیچے شمالی جانب ایک عارضی چبوترہ بنایا گیا جس پر اراکین مدرسہ اور دوسرے معززیں کے لئے کرسیاں بچھائی گئیں اور جنوبی طرف ایک میز رکھی گئی۔میز پر دائیں جانب قرآن کریم اور بائیں جانب کرہ ارض رکھا تھا۔میز کے سامنے طالب علموں کی ورزش کے لئے ایک ستون قائم کیا گیا۔جلسہ کی اصل غرض تو صرف یہ تھی کہ حضرت امام الزمان مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام قدم رنجہ فرما کر دعا کریں اور اپنی زبان فیض ترجمان سے ارشاد بھی فرما ئیں اور اس لئے پہلے بھی یہ جلسہ ملتوی کر دیا گیا تھا مگر افسوس اس روز بھی حضور خرابی صحت کی وجہ سے تشریف نہ لا سکے اور اپنی طرف سے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کو اپنا پیغام دے کر بھجوایا۔چنانچہ عین اس وقت جب کہ سب کی