تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 303 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 303

تاریخ احمدیت جلد ۳۰۰ مولوی کرم دین صاحب کا دوسرا طویل مد اکیلا نہیں۔سو میں اپنے خدا سے قوت پا کر اٹھا اور اس کی روح کی تائید سے میں نے اس رسالہ کو لکھا اور جیسا کہ خدا نے مجھے تائید دی میں نے کہیں چاہا کہ ان تمام گالیوں کو جو میرے نبی مطاع کو اور مجھے AF دی گئی ہیں نظر انداز کر کے نرمی سے جواب لکھوں اور پھر یہ کاروبار خداتعالی کے سپرد کر دوں۔" رسالہ "نسیم دعوت " اپنے عالی مضامین اور جدید طرز بیان کی وجہ سے بجائے خود ایک معجزہ تھا جس کی تصنیف میں اللہ تعالی نے اپنے برگزیدہ رسول کی خاص تائید اور نصرت فرمائی۔آریہ صاحبوں نے اپنے اشتہار میں سب سے بڑا اعتراض یہ اٹھایا تھا کہ ان نو مسلموں کا مسلمان ہونا اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اول چاروں دید نہ پڑھتے ، پھر آریہ دھرم کا اسلام سے مقابلہ کرتے۔حضرت اقدس نے وسیم دعوت میں پہلے اس امر پر روشنی ڈالی کہ تبدیلی مذہب کے لئے کس قدر معلومات درکار ہیں۔چنانچہ حضور نے تحریر فرمایا کہ تبدیلی مذہب کے لئے تمام جزئیات کی تفتیش کچھ ضروری نہیں صرف تین باتوں کا دیکھنا ضروری ہے۔اول یہ کہ اس مذہب میں خدا کی نسبت کیا کیا تعلیم ہے یعنی اس کی توحید اور قدرت اور علم اور کمال اور عظمت اور سزا اور رحمت اور دیگر لوازم اور خواص الوہیت کی نسبت کیا بیان ہے ؟ دوم ہر نفس انسانی نیز بنی نوع اور قوم کے بارے میں وہ کیا تعلیم دیتا ہے۔سوم - طالب حق کو یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ یہ مذہب کوئی مردہ اور فرضی خدا تو نہیں پیش کرتا جو محض قصوں اور کہانیوں کے سہارے پر مانا گیا ہو۔ایسا خدا انسان کو پاک زندگی بخش نہیں سکتا اور نہ شبہات کی تاریکی سے باہر نکال سکتا ہے بلکہ ایک مردہ پر میشر سے ایک زندہ بیل بہت بہتر ہوتا ہے جس سے کاشت کاری کر سکتے ہیں۔پس کوئی طالب حق کسی ایسے مذہب پر راضی نہیں ہو سکتا جس میں زنده خدا اپنا جلوہ قدرت نہیں دکھلاتا اور اپنے جلال کی بھری ہوئی آواز سے تسلی نہیں بخشا۔ان اصولی امور کے اظہار کے بعد حضور نے بڑی تفصیل سے نہایت زور دار پیرایہ میں ثابت کیا کہ یہ تینوں قسم کی خوبیاں محض اسلام میں پائی جاتی ہیں اور باقی جس قدر مذاہب رؤے زمین پر موجود ہیں کیا آریہ اور کیا عیسائی اور کیا کوئی اور مذہب والا وہ سب ان خوبیوں سے بالکل خالی ہیں۔اس کتاب میں حضور نے آریوں کے مسئلہ نیوگ کا بھی ذکر فرمایا ہے۔یہ کتاب ۲۸۔فروری ۱۹۰۳ء کو ایک ہفتہ کے اندر اندر تصنیف و طبع ہو کر عین اس وقت شائع ہوئی جب کہ قادیان کی آریہ سماج کا سالانہ جلسہ منعقد ہو رہا تھا۔یہ کتاب «نسیم دعوت" جب پنڈت رام مجدت تصنیف و اشاعت "سناتن دھرم" صاحب پریذیڈنٹ آریہ پرتی ندھی سمجھا پنجاب کے پاس آریہ سماج کے جلسہ قادیان میں پہنچی تو انہوں نے اپنی آخری تقریر میں حضور کا ذکر کر کے کہا کہ