تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 300 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 300

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ الهام ۲۹۷ سیدنا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعدد شعر وہاں کوئی قلم و دوات بلکہ پنسل تک موجود نہ تھی آخر باورچی خانہ سے ایک کو ٹلہ لایا اور اس سے مفتی محمد صادق صاحب نے کاغذ پر لکھا۔آپ پھر اسی طرح لیٹ گئے۔تھوڑی دیر کے بعد پھر آپ نے لکھایا۔غرض اسی طرح آپ نے اس وقت چند الہامات لکھوائے جن میں سے ایک یسئلونک عن شانک والا الہام بھی تھا۔اس کے بعد حضور اقدس نے اپنے خدام کے سامنے جو چالیس سے کم نہ تھے یہ الہام سنا دیا۔جن میں مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے اور خواجہ کمال الدین صاحب بھی تھے۔ای روز حضور اقدس کی گواہی تھی۔چونکہ عدالت کو علم تھا کہ حضرت اقدس کی موجودگی سے شائقین زیارت بکثرت جمع ہوں گے اس لئے عدالت کی کرسی عمارت سے باہر باغ کے درمیان نصب کی گئی اور بنچوں اور کرسیوں وغیرہ کا کافی انتظام کر دیا گیا جس سے شائقین بڑے آرام اور عمدگی سے عدالتی کارروائی سن سکیں۔اس موقعہ پر عدالت کے کل افسر اور گورداسپور کے رؤسا اور وکلاء موجود تھے۔حکیم فضل الدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب کی مختصر شہادت لی گئی اس کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود کا بیان شروع ہوا۔اور خدا کی قدرت !! فریق ثانی کے وکیل نے آپ سے یہی سوال کیا کہ کیا آپ کی شان اور مرتبہ ایسا ہی ہے جیسا کہ تحفہ گولڑویہ 3 میں لکھا گیا ہے۔حضور نے جواب دیا کہ ہاں خدا کے فضل سے یہی مرتبہ ہے۔اسی نے یہ مرتبہ مجھے عطا کیا ہے۔چنانچہ سرکاری عدالت کی مقدمہ مسل میں حضرت اقدس کے بیان کا ایک حصہ ان الفاظ میں درج ہے۔تحفہ گولڑویہ میری تصنیف ہے۔یکم ستمبر ۱۹۰۲ ء کو شائع ہوئی۔پیر مہر علی کے مقابلہ پر لکھی ہے۔یہ کتاب سیف چشتیائی کے جواب میں نہیں لکھی گئی۔(سوال) جن لوگوں کا ذکر صفحہ ۱۴۸ لغایت ۵۰ اس کتاب میں لکھا ہے آپ ہی اس کے مصداق ہیں (جواب) خدا کے فضل اور رحمت سے اس کا مصداق ہوں۔۔۔الخ۔" اس طرح وہ الہام جو خدا کی طرف سے صبح کو ہوا تھا قریباً عصر کے وقت پورا ہو گیا اور ازدیاد ایمان کا موجب بنا۔بیان ختم ہوا تو شام کو حضرت اقدس گورداسپور سے رخصت ہو کر بٹالہ تشریف لائے اور دوسرے دن ۲۰ / اگست کو ۸ بجے صبح قادیان پہنچ گئے۔بالاخر ۱۴ / جنوری ۱۹۰۴ء کو رائے چند و لال مجسٹریٹ نے اس مقدمہ کا فیصلہ سنایا کہ مستغیث ( حکیم فضل الدین صاحب) کے پیش کردہ خطوط اور مضمون سراج الاخبار مولوی کرم دین یا اس کے شاگر د شہاب الدین کے ہی لکھے ہوئے ہیں لیکن جرم ثابت نہیں۔اس لئے مقدمہ خارج کیا جاتا ہے۔