تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 295 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 295

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۹۲ سید نا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعد د سفر کا نشان متا ہے۔" یہ سن کر میں خاموش ہو گیا۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کی طرف سے جرمانہ کی ادائیگی ادھر یہ بات ہوئی ادھر خدا تعالٰی نے حضور کے کئی خدام کے دل میں یہ تحریک کی کہ وہ فیصلہ کے دن روپے ساتھ لے گئے بلکہ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے تو احتیاطا نو سو روپیہ فیصلہ سے ایک روز پیشتر ہی اپنے آدمی کے ہاتھ بھجوا دیا۔چنانچہ جوں ہی فیصلہ سنایا گیا خواجہ کمال الدین صاحب نے اس رقم سے اسی وقت جرمانہ کی رقم ادا کر دی اور لالہ آتمار ام اور ان کے ساتھیوں کا سارا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔۵۵ فیصلہ کی مزید تفصیلات مولف مجدد اعظم " کا بیان ہے کہ حضرت اقدس اور حکیم فضل " دین صاحب کو عدالت میں بلایا گیا اور عدالت میں پہرہ لگا دیا گیا اور سپاہیوں کو کہہ دیا گیا کہ سوائے مرزا صاحب اور حکیم فضل الدین کے کوئی دوسرا شخص عدالت کے کمرہ میں نہ آوے اور ایک سپاہی ہتھکڑیاں لے کر عدالت کے کمرہ میں کھڑا کر دیا گیا اور کہہ دیا گیا کہ جرمانہ کا حکم سنتے ہی اگر فوراً جرمانہ ادا نہ ہو تو دو نو صاحبوں کو فورا ہتھکڑیاں لگا کر جیل خانہ پہنچا دیا جائے۔حضرت اقدس ان تمام منصوبوں سے بے خبر نہایت بے پروائی سے کمرہ عدالت میں داخل ہو گئے اور ساتھ ہی حکیم صاحب بھی۔خواجہ صاحب حوائج ضروریہ کے لئے گئے ہوئے تھے وہ واپس آئے تو دیکھا کہ حضرت اقدس عدالت کے کمرہ میں اکیلے داخل ہو رہے ہیں۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ مجسٹریٹ نے فیصلہ سنانے کے لئے بلایا ہے اور حکم دیا ہے کہ کوئی اور آدمی کمرہ میں نہ آوے۔ان کا ماتھا ٹھنکا انہوں نے سمجھ لیا کہ خیر نہیں۔بھاگ کر عدالت کے کمرہ کے دروازے پر پہنچے۔اندر گھنے لگے تو دو سپاہیوں نے دروازہ پر دونوں طرف سے آگے بڑھ کر روکا۔انہوں نے کہا کہ میں کیسے اندر نہ جاؤں میں ملزمان کا وکیل ہوں اور ساتھ ہی بغیر کسی جواب کے انتظار کے دونوں ہاتھ پھیلا کر دونوں سپاہیوں کو دروازہ کے باہر دھکیل دیا۔ماشاء الله تنومند آدمی تھے سپاہی پھر نہ بولے۔کمرہ کے اندر گئے تو مجسٹریٹ فیصلہ سنا رہا تھا۔وہاں جو سات سو روپیہ جرمانہ سنا تو انہوں نے فوراسات سورد پیہ کے نوٹ جیب میں سے نکال کر عدالت کی میز پر رکھ دئے۔مجسٹریٹ ہکا بکا رہ گیا۔اس کا سارا منصوبہ حضرت اقدس کو قید کرنے کا خاک میں مل گیا۔بہت تلملایا اور چہرہ سیاہ پڑ گیا لیکن نوٹوں کو دیکھ کر پھر چہرہ پر رونق آگئی اس زمانہ میں نوٹوں پر لاہور کلکتہ کراچی ، مدراس وغیرہ لکھا ہو تا تھا۔باقی نوٹ دوکاندار قبول نہ کرتے تھے۔خواجہ صاحب نے جو نوٹ عدالت کے آگے پیش کئے تھے ان پر " مدراس۔کراچی "لکھا ہوا تھا۔فورا مجسٹریٹ صاحب بولے کہ یہ نوٹ مدارس۔کراچی کے ہیں یہاں قابل قبول نہیں۔خواجہ صاحب