تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 285
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۸۲ سید نا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعدد سفر جن دنوں میں گورداسپور میں کرم دین صاحب کے ساتھ مقدمہ تھا اور مجسٹریٹ نے تاریخ دی ہوئی تھی اور حضرت صاحب قادیان میں آئے ہوئے تھے حضور نے تاریخ سے دو روز پہلے مجھے گورداسپور بھیجا کہ میں جا کر وہاں بعض حوالے نکال کر تیار رکھوں۔۔۔جب ہم گورداسپور مکان پر آئے تو نیچے سے ڈاکٹر محمد اسمعیل خاں صاحب مرحوم کو آواز دی گئی کہ وہ نیچے آویں اور دروازہ کھولیں۔ڈاکٹر صاحب موصوف اس وقت مکان میں اوپر ٹھرے ہوئے تھے۔ہمارے آواز دینے پر ڈاکٹر صاحب نے بے تاب ہو کر رونا اور چلانا شروع کر دیا۔ہم نے کئی آواز میں دیں مگر وہ اسی طرح روتے رہے۔آخری تھوڑی دیر کے بعد وہ آنسو پونچھتے ہوئے نیچے آئے۔ہم نے سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میرے پاس محمد حسین منشی آیا تھا۔محمد حسین نے کور گورداسپور میں کسی کھری میں محر ریا پیش کار تھا اور سلسلہ کا سخت مخالف تھا اور مولوی محمد حسین بٹالوی کے ملنے والوں میں سے تھا۔ڈاکٹر صاحب نے بیان کیا کہ محمد حسین منشی آیا اور اس نے مجھے کہا کہ آج کل یہاں آریوں کا جلسہ ہوا ہے۔بعض آریہ اپنے دوستوں کو بھی جلسہ میں لے گئے تھے چنانچہ اس طرح میں بھی وہاں چلا گیا جلسہ کی عام کار روائی کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ اب جلسہ کی کارروائی ہو چکی ہے اب لوگ چلے جائیں کچھ ہم نے پرائیویٹ باتیں کرنی ہیں۔چنانچہ سب غیر لوگ اٹھ گئے۔میں بھی جانے لگا مگر میرے آریہ دوست نے کہا کہ اکٹھے چلیں گے آپ ایک طرف ہو کر بیٹھ جاویں یا باہر انتظار کریں۔چنانچہ میں وہاں ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا۔پھر ان آریوں میں سے ایک شخص اٹھا اور مجسٹریٹ کو مرزا صاحب کا نام لے کر کہنے لگا کہ یه شخص ہمارا سخت دشمن اور ہمارے لیڈر لیکھرام کا قاتل ہے اب وہ آپ کے ہاتھ میں شکار ہے اور ساری قوم کی نظر آپ کی طرف ہے۔اگر آپ نے شکار کو ہاتھ سے جانے دیا تو آپ قوم کے دشمن ہوں گے۔اور اس قسم کی جوش دلانے کی باتیں کیں۔مجسٹریٹ نے جواب دیا کہ میرا تو پہلے سے خیال ہے کہ ہو سکے تو نہ صرف مرزا کو بلکہ اس مقدمہ میں جتنے بھی اس کے ساتھی اور گواہ ہیں سب کو جنم میں پہنچا دوں مگر کیا کیا جاوے کہ مقدمہ ایسی ہوشیاری سے چلایا جا رہا ہے کہ کوئی ہاتھ ڈالنے کی جگہ نہیں ملتی۔لیکن اب عہد کرتا ہوں کہ خواہ کچھ ہو اس پہلی پیشی میں ہی عدالتی کارروائی عمل میں لے آؤں گا۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب بیان کرتے تھے کہ محمد حسین مجھ سے کہتا تھا کہ آپ یہ نہیں سمجھے ہوں گے کہ عدالتی کارروائی سے کیا مراد ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مجسٹریٹ کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ شروع یا دوران مقدمہ میں جب چاہے ملزم کو بغیر ضمانت قبول کئے گرفتار کر کے حوالات میں دے دے۔محمد حسین نے کہا۔ڈاکٹر صاحب! آپ جانتے ہیں کہ میں اس سلسلہ کا سخت مخالف ہوں مگر مجھ میں یہ بات ہے کہ میں کسی معزز خاندان کو ذلیل و برباد ہوتے خصوصاً ہندوؤں کے ہاتھوں سے ذلیل ہوتے