تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 283
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۸۰ سید نا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعد د سفر حضرت علی کی اولاد میں ہونے کی وجہ سے علوی کہلاتا ہے۔اسلامی انجمنوں کے سالانہ جلسوں میں مجھے مدعو کیا جاتا ہے۔مقامی حکام مجھ کو عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔سرکاری طور پر جو جلسے کئے جاتے ہیں اول میں بلایا جاتا ہوں۔یہ نظر اس عزت کے جو پبلک کے دلوں میں میری نسبت ہے فقرہ جات استغاثہ میں میری سخت بے عزتی ہوئی ہے۔۱۲/ نومبر سے ۱۶/ نومبر ۱۹۰۳ء تک پھر اس مقدمہ کی سماعت ہوئی جس میں مولوی کرم دین صاحب نے تمہ بیان کے علاوہ جرح کے جواب میں بھی متعد د بیان دئے جن میں عدالت کو بتایا کہ میں چار مسجدوں کا امام ہوں۔فیصلوں کی یادداشت کے لئے سرکاری طور پر مجھے رجسٹر ملا ہوا ہے۔ایک قصیدہ میں نے سرکاری جلسہ میں بھی پڑھا تھا جس پر انعام ملا۔اور مینٹل کالج لاہور میں مولوی فاضل کی تعلیم پائی مگر امتحان میں شامل نہ ہوا اور نہ سند حاصل کی۔۶ / اکتوبر ۱۹۰۲ء کے اخبار سراج الاخبار میں جو مضمون چھپا ہے وہ میرا نہیں ہے۔میں نے کوئی خط حکیم فضل دین صاحب کو نہیں لکھا نہ لکھوایا۔نہ میں نے شہاب الدین کو کوئی اطلاع دی کہ پیر صاحب نے فیضی صاحب کی کتاب سیف چشتیائی سرقہ کی ہے۔۱۳/ اکتوبر ۱۹۰۲ء کے سراج الاخبار میں جو نوٹوں کی نقل اور خط و کتابت اور خام نویس سے لکھائے جانے کی بابت لکھا ہے وہ جھوٹ ہے۔انگریزوں کی ملاقاتوں میں مجھ کو کرسی ملتی ہے۔رسم تاج پوشی کے دہلی کے دربار میں مجھے بلایا گیا۔" نیز بجواب جرح کہا۔میں دروغ گو عالم کی عزت کروں گا اور اگر وہ معزز ہے۔دروغ گوئی موجب نفی عزت نہیں۔اگر وہ عادی جھوٹا ہو تو اس کی عالمانہ حیثیت میں کسی قدر فرق آجاتا ہے۔ان ہی ایام میں مولوی شاء الله صاحب امرتسری بطور گواہ استغاثہ پیش ہوئے اور بیان دیا کہ میں مستغیث کو عالم مولوی اور مسلمانوں کا لیڈر سمجھتا ہوں لتیم سخت تحقیر کا کلمہ ہے۔مولوی ثناء اللہ صاحب کے بعد مولوی محمد علی صاحب کی گواہی ہوئی جس میں انہوں نے مختلف لغات اور تراجم قرآن سے کذاب اور نیم کے معنی واضح کئے۔۱ دسمبر کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مستغیث مولوی کرم دین صاحب پر جرح کے وقت اپنے مخصوص عقائد کی ایک فہرست عدالت میں داخل فرمائی جس میں حضور نے تحریر فرمایا کہ۔میں مرزا غلام احمد مسیح موعود و مهدی محمود اور امام الزماں اور مجد دوقت اور علی طور پر رسول اور نبی اللہ ہوں اور مجھ پر خدا کی وحی نازل ہوتی ہے۔" نیز لکھا کہ " مسیح موعود اس امت کے تمام گزشتہ اولیاء سے افضل ہیں۔"