تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 282 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 282

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۷۹ سیدنا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعد د سفر عجیبا کیسے ہوتا ہے۔انجام مقدمات کی نسبت قبل از وقت بشارات اور پیش گوئی مقدمہ ابھی بالکل حد ابتدائی مرحلے میں ہی تھا کہ اللہ تعالی نے آپ کو اس کے انجام کی بابت بھی اطلاع دینا شروع کر دی۔چنانچہ ابتداء ۲۸ جنوری ۱۹۰۳ء کی شام کو الہام ہوا۔" ان الله مع عباده یواسیک " یعنی خدا اپنے بندوں کے ساتھ ہے وہ تیری غم خواری کرے گا۔۲۹/ جنوری کی صبح کو الہام ہوا۔"ساکر مک اگر اما عجیبا - یعنی شاندار رنگ میں تیری عزت قائم کی جائے گی۔20 / فروری ۱۹۰۳ء کو الہام ہوا۔يَوْمُ الْاثْنَيْنِ وَفَتْحُ الْحُنَيْنِ " ( روز دو شنبہ اور حسین والی فتح) اس کے چھ ماہ بعد ۱۸/ اگست 1903ء کو پھر الہام ہوا۔" ساکر مک بعد توهینک " یعنی تیری اہانت کے بعد تجھے عزت عطا کی جائے گی۔۲۸ / جون ۱۹۰۳ء کو درمیانی رات کو الہام ہوا۔اِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقُوا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ فِيهِ آيَاتٌ للسائلین - کہ ان دونوں فریقوں میں سے خدا اس فریق کے ساتھ ہو گا اور اس کو فتح اور نصرت نصیب کرے گا جو پرہیز گار ہے اور خدا سے ڈر کر اس کے بندوں کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی اور نیکی کے ساتھ پیش آتا ہے اور بنی نوع کا وہ سچا خیر خواہ ہے۔سو انجام کاران کے حق میں فیصلہ ہو گا۔تب وہ لوگ جو پوچھا کرتے ہیں کہ ان دونوں گروہوں میں سے حق پر کون ہے ان کے لئے یہ ایک نشان بلکہ کئی ایک نشان ظاہر ہوں گے۔ان الہاموں اور پیش گوئیوں میں یہ بتایا گیا تھا کہ اول اس مقدمہ میں ایک ابتلاء پیش آئے گا یعنی اول عدالت کا فیصلہ آپ کے حق میں نہ ہو گا مگر انجام کار ایسے غیر معمولی حالات پیدا ہوں گے کہ آپ کی عزت ظاہر کی جائے گی مگر مخالف کی بے عزتی ہوگی۔مولوی کرم دین صاحب نے ۲۶/ جنوری ۱۹۰۳ء کو حضرت اقدس اور حکیم مقدمہ کی سماعت فضل الدین صاحب کے خلاف جہلم میں استقالہ دائر کیا تھا وہ 19 جون ۲۹ / ۱۹۰۳ء کو منتقل ہو کر گورداسپور میں ایک کٹر اور متعصب آریہ لالہ چند ولال صاحب بی۔اے مجسٹریٹ درجہ اول کی عدالت میں آگیا۔جہاں دوسرے تین مقدمات بنام مولوی کرم دین چل رہے تھے۔۱۸/ اگست ۱۹۰۳ء کو گورداسپور میں اس مقدمہ کی پیشی ہوئی۔خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر نے حضرت اقدس کی طرف سے یہ درخواست پیش کی کہ عدالت گورداسپور (حضرت) مرزا صاحب کی اصالتنا حاضری کو معاف فرمائے مگریہ درخواست رد کر دی گئی۔۱۷ اکتوبر ۱۹۰۳ء کو مولوی کرم دین صاحب نے بیان دیا کہ میں اعوان قوم کا ممتاز فرد ہوں جو