تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 281 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 281

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۷۸ سیدنا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعدد خر مولوی کرم دین صاحب کادوسرا مقدمہ ازالہ حیثیت عرفی حضرت مسیح موعود کے سفر گورداسپور اور چیف کورٹ میں بریت مولوی کرم دین صاحب کو جب اپنے پہلے مقدمہ میں ناکامی ہوئی تو انہوں نے حضرت مسیح موعود اور حکیم فضل دین صاحب مالک مطبع ضیاء الاسلام قادیان کے خلاف ۲۸ / جنوری ۱۹۰۳ء کو دوسرا فوج داری مقدمہ زیر دفعات ۵۰۲٬۵۰۱٬۵۰۰ تعزیرات ہند رائے سنسار چند صاحب مجسٹریٹ جہلم ہی کی عدالت میں دائر کر دیا۔یہ مقدمہ " مواہب الرحمن " صفحہ ۱۲۹ کے ان الفاظ کی بناء پر تھا جس میں ان کے لئے کذاب الیم اور بہتان عظیم کے لفظ استعمال کئے گئے تھے۔چنانچہ انہوں نے عدالت میں بیان ا دیا کہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء کو مرزا غلام احمد قادیانی نے کتاب مواہب الرحمن جو اس کی اپنی تصنیف ہے۔اور جو ۱۴ / جنوری ۱۹۰۳ء کو ملزم نمبر ۲ ( مراد حکیم فضل دین صاحب۔ناقل) کے مطبع ضیاء الاسلام میں چھپی تھی اس کے صفحہ ۱۲۹ پر ہتک آمیز الفاظ میری بابت درج کئے۔۔۔اس عبارت میں جو کذاب حسین کا لفظ لکھا گیا ہے وہ قرآن شریف میں ایک خاص کا فرولید بن مغیرہ کی نسبت لکھا گیا ہے اور اس لفظ کے کہنے سے مجھے کو گویا اس کا فر سے تشبیہ دی گئی ہے۔" حضرت مسیح موعود کا پر شوکت اعلان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں اس کی اطلاع ۳۱ / جنوری ۱۹۰۳ء کو پہنچی تو حضور نے فرمایا " اب یہ ان لوگوں کی طرف سے ابتداء ہے۔کیا معلوم کہ خدا تعالی ان کے مقابلہ میں کیا کیا تدابیر اختیار کرے گا۔یہ استغاثہ ہم پر نہیں اللہ تعالٰی پرہی معلوم ہوتا ہے کہ لوگ مقدمات کر کے تھکانا چاہتے ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا زور آور حملوں سے سچائی ظاہر کر دے گا۔اس وقت یہ پورے زور لگائیں گے تاکہ قتل کے مقدمہ کی حسرتیں نہ رہ جائیں کہ کیوں چھوٹ گیا۔یہ لوگ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے جو خدا کی طرف سے میں پیش کرتا ہوں۔مگر وہ دیکھ لیں گے کہ اگر اما