تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 275
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۷۲ مواهب الرحمن " کی تصنیف و اشاعت طریق جو مباحثات سے بہت دور ہے وہ یہ ہے کہ آپ اس مرحلہ کو صاف کرنے کے لئے اول یہ اقرار کر دیں کہ آپ منہاج نبوت سے باہر نہیں جائیں گے اور وہ اعتراض نہ کریں گے جو آنحضرت پر یا حضرت عیسی یا حضرت موسیٰ یا حضرت یونس پر عائد ہوتا ہے اور اس حدیث اور قرآن کی پیش گوئیوں پر زدنہ پڑتی ہو۔دوسری شرط یہ ہوگی کہ آپ زبانی بولنے کے ہر گز مجاز نہ ہوں گے صرف آپ مختصر ایک سطر یا دو سطر تحریر دے دیں کہ میرا یہ اعتراض ہے پھر آپ کو عین مجلس میں مفصل جواب سنایا جائے گا۔۔۔تیسری شرط یہ ہے کہ ایک دن میں صرف ایک ہی اعتراض آپ پیش کریں گے کیوں کہ آپ اطلاع دے کر نہیں آئے۔۔۔اور ہم ان دنوں میں باعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب کے تین گھنٹہ سے زیادہ وقت نہیں دے سکتے۔۔آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ اگر بچے ITA دل سے آئے ہیں تو اس کے پابند ہو جائیں اور ناحق فتنہ و فساد میں عمر بسر نہ کریں۔مولوی شاء اللہ صاحب کا تحقیق حق سے گریز مولوی شاء اللہ صاحب امرتسری نے اس معقول طریق تحقیق کے جواب میں جو رقعہ لکھا اس میں انہوں نے حضور کی پیش کردہ کوئی شرط بھی تسلیم نہ کی حتی کہ یہ لکھ کر دینے سے بھی صریحاً گریز کیا کہ میں آپ کے دعوی کو پر رکھنے کے لئے منہاج نبوت سے باہر نہیں جاؤں گا۔دوسری طرف پھر مناظرہ کی طرح ڈالتے ہوئے لکھا کہ ” میں اپنی دو تین سطریں مجمع میں کھڑا ہو کر سناؤں گا اور ہر ایک گھنٹہ کے بعد تین سطریں پانچ نہایت دس منٹ تک آپ کے جواب کی نسبت رائے ظاہر کروں گا۔" اس رقعہ نے ان کی مناظرانہ روش بالکل واضح کر دی۔اس لئے مولوی سید محمد احسن صاحب نے انہیں حضور کی اجازت سے یہ جواب بھجوا دیا کہ " حضرت اقدس " انجام آتھم " میں اور نیز اپنے خط مرحومہ جواب رقعہ میں قسم کھا چکے ہیں کہ مباحثہ کی شان سے مخالفین سے کوئی تقریر نہ کریں گے خلاف معاہدہ الہی کے کوئی مامور من اللہ کیوں کر کسی فعل کا ارتکاب کر سکتا ہے۔طالب حق کے لئے جو طریق حضرت اقدس نے تحریر فرمایا ہے کیا وہ کافی نہیں؟ لہذا آپ کی اصلاح جو بطر زشان مناظرہ آپ نے لکھی ہے وہ ہرگز منظور نہیں ہے اور یہ بھی منظور نہیں فرماتے ہیں کہ کل قادیان کے اہل الرائے وغیرہ مجتمع ہوں۔" مولوی ثناء اللہ صاحب اس مولوی صاحب کی قادیان سے واپسی اور پراپیگنڈا معقول جواب پر قادیان سے چلے گئے اور ”فتح قادیان" کے نام سے ایک پمفلٹ شائع کیا جس میں لکھا کہ مرزا صاحب نے خود ہی