تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 274
تاریخ احمدیت - جلد ۲ مواهب الرحمن " کی تصنیف و اشاعت کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صدہا گالیاں نکالتے تھے جن کے گندے رسالے اب تک موجود ہیں۔ایک غیرت مند مومن کا کام نہیں کہ ایسے پلید گروہ دشمن اسلام کے گھر میں اترے۔۔۔۔وہ میرے دروازہ پر نہیں آیا میں اس کی خاطر داری کرتا بلکہ دشمنان اسلام اور دشمنان نبی کریم کے دروازہ پر گیا۔" مغرب کے وقت ایک قاصد نے مولوی صاحب کا یہ رقعہ مولوی ثناء اللہ صاحب کا خط حضور کی خدمت میں پیش کیا کہ " خاکسار حسب دعوت آپ F کے مندرجہ "اعجاز احمدی " صفحہ ۱ او ۳۳ قادیان میں اس وقت حاضر ہے۔۔۔اس لئے امید ہے کہ آپ میری تقسیم کے لئے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کریں گے اور حسب وعدہ خود مجھے اجازت بخشیں گے کہ میں مجمع میں آپ کی پیش گوئیوں کی نسبت اپنے خیالات ظاہر کروں۔" قطع نظر اس امر کے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کا آریہ سماج مندر میں قیام کرنا خود یہ واضح کر رہا تھا کہ ان کو حضرت اقدس سے کتنا ذاتی بغض و عناد ہے لیکن ان کی اس تحریر نے تو صاف واضح کر دیا کہ ان کا قادیان آنا حضور کی دعوت کے قبول کرنے کے نتیجہ میں نہیں تھا کیوں کہ حضور نے اپنی دعوت میں صاف طور پر دو باتیں لکھی تھیں۔اول۔مولوی صاحب موصوف تمام پیش گوئیوں کی تحقیق کے لئے قادیان آئیں (مناظرہ کے لئے نہیں کیوں کہ حضور خود انجام آتھم میں اس سے ہمیشہ کے لئے دستکش ہونے کا اعلان کر چکے تھے ) دوم۔مولوی صاحب تحقیق سے قبل لکھ دیں کہ وہ منہاج نبوت کو تسلیم کرتے ہیں۔لیکن مولوی صاحب نے ان دو امور کی صریحاً خلاف ورزی کی اور وہ تحقیق کی بجائے مناظرہ کے لئے پہنچے جیسا کہ ان کے سیرت نگار نے اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔”مولانا بھلا کب چوکنے والے تھے فورا قادیان پہنچ گئے اور مرزا صاحب کو اطلاع بھیجوا دی کہ بندہ حاضر ہے مناظرہ کے لئے میدان میں آئیے۔" te ان حالات میں حضرت اقدس کا مولوی ثناء اللہ صاحب کے رقعہ کا حضرت اقدس کا جواب جواب دینا اور ان کو مخاطب کرنا اصولاً یا اخلاقاً کسی طرح واجب نہیں تھا مگر باوجود اس غم کے جو مولوی صاحب کے آریہ سماج کے ہاں قیام کے باعث آپ کو پہنچا تھا حضور نے دوسرے دن صبح ۱۱/ جنوری ۱۹۰۳ ء کو جوابی خط لکھا۔میں ہمیشہ طالب حق کے شبہات دور کرنے کے لئے تیار ہوں۔اگر چہ آپ نے اپنے اس رقعہ میں دعویٰ تو کر دیا ہے کہ میں طالب حق ہوں مگر مجھے تامل ہے کہ اس دعوئی پر آپ قائم رہ سکیں۔کیوں کہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ ہر ایک بات کو کشاں کشاں بیہودہ اور لغو مباحثات کی طرف لے آتے ہیں اور میں خدا تعالیٰ کے سامنے وعدہ کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے مباحثات ہرگز نہیں کروں گا سودہ