تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 273
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۷۰ تصنیف و اشاعت تھے۔اور پھر ضلع کی کچھری کے ارد گرد اس قدر لوگوں کا ہجوم تھا کہ حکام حیرت میں پڑ گئے۔گیارہ سو آدمیوں نے بیعت کی اور قریباً دو سو عورت بیعت کر کے اس سلسلہ میں داخل ہوئی اور کرم دین کا مقدمہ جو میرے پر تھا خارج کیا گیا اور بہت سے لوگوں نے ارادت اور انکسار سے نذرانے دیئے اور تھے پیش کئے۔اور اس طرح ہم ہر ایک طرف سے برکتوں سے مالا مال ہو کر قادیان میں واپس آئے اور خدا تعالٰی نے نہایت صفائی سے وہ پیش گوئی پوری فرمائی۔" راستہ میں لاہور سے آگے گوجرانوالہ اور وزیر آباد اور گجرات وغیرہ سٹیشنوں پر اس قدر لوگ ملاقات کے لئے آئے کہ سٹیشنوں پر انتظام رکھنا مشکل ہو گیا۔ٹکٹ پلیٹ فارم ختم ہونے کی وجہ سے لوگ بلا ٹکٹ پلیٹ فارم پر چلے گئے۔اور بعض مقامات پر گاڑی کو کثرت ہجوم کی وجہ سے زیادہ دیر تک ٹھہرایا گیا اور نہایت نرمی سے زائروں کو ملازمین ریل نے گاڑی سے علیحدہ کیا۔بعض جگہ کچھ دیر تک لوگ گاڑی کو پکڑے ہوئے ساتھ چلے گئے۔خوف تھا کہ کوئی آدمی نہ مرجاوے۔ان واقعات کو مخالف اخباروں نے بھی مثل "پنجہ فولاد " کے شائع کیا تھا۔" حضرت اقدس مسیح موعود مولوی شاء اللہ صاحب امرتسری کی قادیان میں آمد علیہ السلام نے اعجاز احمدی" میں مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو دعوت دی تھی کہ وہ " تحقیق کے لئے قادیان میں آدیں اور تمام پیش گوئیوں کی پڑتال کریں اور ہم قسم کھا کر وعدہ کرتے ہیں کہ ہر ایک پیش گوئی کی نسبت جو منہاج نبوت کی رو سے جھوٹی ثابت ہو ایک سو روپیہ ان کی نذر کریں گے۔۔۔۔اور ہم آمد و رفت کا خرچ بھی دیں گے اور کل پیش گوئیوں کی پڑتال کرنی ہوگی تا آئندہ کوئی جھگڑا باقی نہ رہ جائے اور اسی شرط سے روپیہ ملے گا۔اور ثبوت ہمارے ذمہ ہو گا " ساتھ ہی حضور نے یہ پیش گوئی فرمائی کہ وہ ” قادیان میں تمام پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہر گز نہیں آئیں گے اور کچی پیش گوئیوں کی اپنے قلم سے تصدیق ان کے لئے موت ہو گی۔" چنانچہ وہی کچھ ہوا جس کی خبر آپ نے قبل از وقت دے دی تھی۔اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ء کو حضور کو اطلاع تک دئے بغیر بٹالہ سے دو تین سپاہیوں کی معیت میں قادیان آئے اور آریہ سماج کے مندر میں ٹھہرے۔حضرت اقدس کو یہ من کر بہت صدمہ ہوا کہ وہ براہ راست آپ کے پاس آنے کی بجائے آریہ سماج کے مندر ہی میں کیوں مقیم ہو گئے ؟ چنانچہ حضور نے ایک دو سرے موقعہ پر اس درد کا اظہار فرمایا کہ ” میں نے شاء اللہ کو ہرگز نہیں کہا کہ میرے مکان پر نہ آوے۔۔۔۔۔بلکہ وہ خودان آریہ سماج والوں کے مکان پر اترا جو ہمارے نبی