تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 268 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 268

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۶۵ مواهب الرحمن " کی تصنیف و اشاعت ہے۔اتنے میں۔۔۔۔اسٹیشن ماسٹر صاحب تشریف لائے اور بکنگ کلرک پر ناراض ہوتے ہوئے بولے ٹکٹ بند کرو گیٹ کھول دو۔لوگوں کو جانے دو۔ہجوم میں مرزا صاحب کی زیارت کا جوش ہے۔کھڑکی جلدی بند کرو خطرہ ہے کہ لوگ کھڑ کی نہ تو ڑ دیں۔گیٹ کے قریب ایک ادھیڑ عمر کی ہندو عورت کو کہتے سنا ” بڑی دنیا درشن واسطے آئی ہے۔پر ما تمارا او تار ہے۔نیڑے نہیں جا سکدی دوروں ہی دیکھ لواں گی۔" حضور علیہ السلام کی زیارت کا لوگوں میں اس قدر جوش تھا کہ ہجوم نے ٹرین روک لی اور اسٹیشن ماسٹر نے بھی گاڑی لیٹ کر دی۔" یہ تو صرف وزیر آباد کی بات ہے وگر نہ لاہور سے جہلم تک ہر اسٹیشن پر رجوع خلائق کا ایک نرالا رنگ نظر آتا تھا۔جہلم میں آمد گاڑی دو بجے کے قریب جہلم پہنچی۔جناب غلام حید ر خاں صاحب تحصیل دار جہلم نے (جو حفظ امن کے انتظام کے لئے متعین تھے) حضرت اقدس سے ملاقات کی اور نہایت عزت و احترام سے حضرت اقدس کو بحفاظت تمام گاڑی سے اتارا۔اور شائقین کی تڑپ دیکھ کر حضرت اقدس سے درخواست کی کہ حضور دو ایک منٹ کے لئے گاڑی کے دروازہ میں کھڑے ہو کر اپنے منور چہرہ کی زیارت کرا دیں۔چنانچہ حضور نے یہ درخواست قبول فرمالی اور زائرین حضور کے دیدار سے مشرف ہوئے۔ازاں بعد حضور ایک گاڑی میں مجوزہ فرودگاه (بنگلہ سردار ہری سنگھ صاحب رئیں جہلم) کو چلے۔ایک انبوہ کثیر اس وقت حضور کے ساتھ تھا اور جہاں تک نگاہ جاتی تھی ہر طرف آدمی ہی آدمی دکھائی دیتے تھے۔اس قدر مخلوق تھی کہ اژدھام اور بھیٹر میں حضور کی گاڑی بڑی مشکل سے آہستہ آہستہ چلتی تھی۔حضرت مولوی برہان الدین صاحب علمی کی خوشیوں کا اس دن کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔آپ اس دن ضعیف العمری کے باوجود کمر کے ساتھ چادر باندھے گاڑی کے آگے یہ کہتے جا رہے تھے کہ "پیلی ( چیونٹی) کے گھر نارائن (یعنی بروز خدا) آیا ہے۔" تین بجے گاڑی بنگلہ کے سامنے آکر رکی اور حضرت اقدس گاڑی سے اتر کر اندر بنگلے کے بڑے کمرہ میں ایک کرسی پر جلوہ افروز ہوئے۔باہر بہت سے لوگ زیارت کی غرض سے کھڑے تھے لہذا یہاں بھی حضور سے عرض کیا گیا کہ لوگ حضور انور کو دیکھنے کے لئے ترس رہے ہیں۔یہ دیکھ کر حضور کمرہ سے بنگلہ کی چھت پر تشریف لے گئے اور آرام کرسی پر بیٹھ گئے۔ان دنوں مخالف علماء نے یہ خبر مشہور کر رکھی تھی کہ (معاذ اللہ ) مرزا صاحب جذام کی بیماری میں مبتلا ہیں۔یہ بات چونکہ جہلم کے علاقہ میں بھی بکثرت پھیلائی گئی تھی اس لئے حضرت مولوی برہان الدین صاحب نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور جوں ہی حضور گری پر رونق افروز ہوئے انہوں نے حضرت اقدس کی آستینیں اٹھا کر لوگوں کو باز داور پاؤں