تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 264 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 264

تاریخ احمدیت۔جلد ؟ مواهب الرحمن " کی تصنیف و اشاعت ہے اگر چہ کچھ مدت کے بعد ہو۔اور مجھے بشارت دی گئی کہ اس دشمن کذاب مہین پر بلارد کی جائے گی پس ان تمام خوابوں اور الہامات کو میں نے قبل از وقت شائع کر دیا۔اور جن اخباروں میں شائع کیا ایک کا نام ان میں سے احکم اور دوسری کا نام "البدر" ہے۔پھر میں انتظار کرتا رہا کہ کب یہ پیش گوئی کی باتیں ظہور میں آئیں گی۔پس جب ایک برس گزرا تو یہ مقدر باتیں کرم دین کے ہاتھ سے ظہور میں آگئیں (یعنی اس نے ناحق میرے پر فوج داری مقدمات دائر کئے ) پس اس کے مقدمات دائر کرنے سے پیش گوئی کا ایک حصہ تو پورا ہو گیا اور جو باقی حصہ ہے یعنی میرا اس کے مقدمات سے نجات پانا اور آخر اسی کا سزا یاب ہونا یہ بھی عنقریب پورا ہو جائے گا۔" (ترجمہ) گولڑہ سے ؟ مولوی کرم دین صاحب کا پہلا مقدمہ حضرت مسیح موعود کا سفر جہلم اور بریت جیسا کہ "نزول المسیح" کے حالات میں مفصل بیان ہو چکا ہے کہ مولوی کرم دین ساکن تھیں نے حضرت مسیح موعود اور حکیم فضل دین صاحب کے نام خطوط لکھے کہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کی کتاب " سیف چشتیائی" در اصل مولوی محمد حسن فیضی کا علمی سرقہ ہے۔موادی کرم دین صاحب نے اس امر کے ثبوت میں وہ کارڈ بھی حضرت مسیح موعود کو ارسال کیا جو پیر صاحب موصوف نے ان کے نام سے بھیجا تھا اور جس میں پیر صاحب موصوف نے محمد حسن صاحب فیضی کے نوٹوں کو اپنی کتاب میں درج کرنے کا اعتراف کیا تھا۔حضرت مسیح موعود " نزول المسیح " لکھ رہے تھے کہ حضور کو یہ خطوط پہنچے جو حضور نے کتاب میں درج کر دئے۔ایسا ہی ایڈیٹر اخبار الحکم نے بھی ان کی بناء پر ۷ / ستمبر ۱۹۰۲ء کو ایک مضمون شائع کیا جس میں ان خطوط کی نقول بھی درج کر دیں۔مولوی کرم دین صاحب کا انحراف حق مولوی کرم دین صاحب نے پہلے تو خودی اصل واقعہ سے پردہ اٹھایا تھا مگر جب پریس میں اس کی اشاعت ہوئی تو وہ صاف مکر گئے اور اخبار "الحکم" کے مضمون کے جواب میں مولوی کرم دین صاحب نے ایک مضمون اور قصیدہ "سراج الاخبار " جہلم (مورخہ ۶/ اکتوبر ۱۹۰۲ء د ۱۳ / اکتوبر ۱۹۰۲ء) میں شائع کیا کہ یہ سب خطوط جعلی ہیں۔نیز لکھا کہ مرزا غلام احمد (صاحب) کی اہلیت کی آزمائش کے لئے میں نے اسے دھو کہ دیا اور خلاف واقعہ خطوط لکھے اور لکھائے۔اور ایک بچے کے ہاتھ سے نوٹ لکھوا