تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 262
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۵۹ اسلام کی فتح عظیم پچاس سال سے زائد عرصہ اس اخلاص اور جانثاری اور ونادرای اور محنت سے نبھایا جو ہر احمدی کے لئے قابل رشک ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آپ کے متعلق ایک مرتبہ فرمایا ” چوہدری برکت علی صاحب ان چند اشخاص میں سے ہیں جو محنت کوشش اور اخلاص سے کام کرنے والے ہیں اور جن کے سپرد کوئی کام کر کے پھر انہیں یاد دہانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔" ( اصحاب احمد جلد ہفتم صفحه ۲۱۹-۲۵۷ متولفہ جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے قادیان) تالیا اسی سال ڈاکٹر بشارت احمد صاحب (متولف مجدد اعظم) بھی داخل سلسلہ ہوئے۔آپ ۳/ اکتوبر ۶ ۷ ۱۸ء کو بمقام دھرم سالہ پیدا ہوئے۔فروری ۱۸۹۲ء میں بمقام سیالکوٹ حضور کی پہلی بار زیارت کی۔۱۹۱۴ ء میں جب سلسلہ احمدیہ میں اختلاف کا آغاز ہوا تو احمد یہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے سرگرم ممبر بن گئے۔۲۱ / اپریل ۱۹۴۳ء کو بمبئی میں وفات پائی۔اور لاہور کے قبرستان میانی صاحب (احاطہ احمد یہ) میں سپرد خاک کئے گئے (پیغام صلح لاہور ۲۳ / جون ۱۹۲۳ء صفحہ ۳) آپ کے قلم سے قبول احمدیت کے حالات اخبار پیغام صلح ۷ / ستمبر ۱۹۳۳ء صفحہ ۱۱- ۱۳ میں شائع شدہ ہیں جن سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاثیرات قدی اور اعجاز مسیحائی کا پتہ چلتا ہے۔اپنے حالات کے آخر میں آپ تحریر فرماتے ہیں میں تو حضرت مسیح موعود کی خدمت میں جب بیٹھتا تھا اور اس نورانی چہرہ پر میری نظر جمی ہوتی تھی تو اللہ تعالٰی کے شکر سے میرا قلب لبریز ہو جاتا تھا کہ اللہ اللہ جس شخص کی زیارت کی تمنا بڑے بڑے اولیاء کرتے چلے گئے مجھے گناہ گار کو اس کی زیارت اور بیعت نصیب کی یہ کس قدر جناب ابھی کا احسان ہے۔"