تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 261 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 261

تاریخ احمدیت جلسه ۲ -* -11 ۲۵۸ اسلام کی نفع عظیم یہیں ۱۹۰۸ء میں اس لڑکی کے ہاں ایک اور لڑکا پیدا ہوا جس کا نام پاور رکھا گیا۔مقامی پادریوں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے ایک عدالت میں پکٹ کے خلاف دعوی دائر کیا اور اس پر حرام کاری کا التزام عائد کیا۔عدالت نے دعوی کو درست تسلیم کیا اور پگٹ پر فرد جرم عائد کر دیا گیا۔چمٹ کے پرائیوٹ گر جائی پڑتانی کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہاں تقریباً ایک سو عور تیں تھیں۔اور یہ تمام لوگ کئی درجوں میں منقسم تھے۔ان میں سے بعض ایسے افراد تھے جو چھوٹے کام کرنے پر مقرر تھے اور بعض ایسے افراد تھے جو نٹ کے منظور نظر تھے۔سٹیٹ نے اپنے فرقہ کی شاخ امریکہ اور سکنڈے نیویا میں بھی قائم کرلی تھی۔ایک نقاد نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انگلستان کی تاریخ میں پکٹ کا گر جا اور اس کا دعوی الوہیت اور مسیحیت سب سے بڑا دھوکا تھا جو لوگوں کو دیا گیا۔اور کئی صدیوں تک اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔کٹ بوڑھا ہو چکا تھا۔حتی کہ مارچ کے ۱۹۲ء میں وہ گھڑی آگئی جب اس نے بھی دامی اجل کو لبیک کہا۔گرجے کے چاروں طرف خاردار تاریں لگائی گئیں اور انتہائی خاموشی اور رازداری کے ساتھ اس کا جنازہ لے جایا گیا۔یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ پگٹ کے فرقہ میں موت کو گناہ کی نشانی سمجھا جاتا تھا اور یہی خیال کیا جاتا تھا کہ اس فرقہ کو ابدی زندگی عطا ہو گی مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔آج اس مختصر ترین فرقہ کی سیاہ اس کی مجوعہ بیوی پریس ہے جس کی عمر اس سال سے تجاویز کر چکی ہے۔چند مٹھی بھر افراد اس کے ساتھ ہیں اور بگٹ کا مخصوص گر جا ہمیشہ مقفل رہتا ہے۔اخبار دی ایوننگ نیوز لنڈن یکم فروری ۱۹۵۵ء صفحه کے زیر عنوان Bogus Messiahs) بیعت جولائی ۱۹۰۲ء وفات ۲۱۔اپریل ۱۹۴۲ء عمر ۷۰ سال۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص مرید اور بہادر سپاہی جنہوں نے اپنی پوری زندگی خدمت دین میں صرف کر دی۔حضرت میر صاحب نے خلافت اوٹی میں دہلی سے اخبار "الحق" اور رسالہ احمدی اور خلافت ثانیہ میں قادیان میں اخبار " فاروق " جاری کیا جس کے ذریعہ سے وہ آخر دم تک مذاہب باطلہ کا مقابلہ کرتے رہے۔علاوہ ازیں آپ نے بہت سی کتابیں بھی تصنیف کیں جو سلسلہ کے لٹریچر میں قابل قدر اضافہ ہیں۔بعض مشہور کتابوں کے نام یہ ہیں۔خلافت محمود دین الحق النبو وان خیر الامتہ تحفہ مستریاں ، بطالوی کا انجام، انیسویں صدی کا مرثی شدھی کی اشد ھی۔سلسلہ تالیف و تصنیف میں ان کا یہ کارنامہ ہمیشہ یادگار رہے گا کہ انہوں نے سال ہا سال کی محنت اور کوشش سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہارات صحیح ترتیب کے ساتھ جمع کر کے دس جلدوں میں شائع کئے اور احمدیت کی ابتدائی تاریخ کا ایک اہم حصہ محفوظ کر لیا۔آزمودہ کار اہل قلم ہونے کے علاوہ آپ کو خداتعالی نے موثر اور دلچسپ تقریر کرنے کی قابلیت بھی بخشی تھی اور مخالفین بھی آپ کے بیان کی خوبی اور دلائل کی قوت کے قائل ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے۔(الفضل ۲۳۔اپریل ۱۹۴۲ء صفحہ ) ولادت یکم ستمبر ۶۱۸۸۳ - ۱۵/ جنوری ۱۹۰۲ء کو منشی خادم حسین صاحب بھیر دی کی تحریک پر بذریعہ خط بیعت کی۔۲۱/ جنوری ۱۹۰۲ ء کو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے قلم سے لکھا ہوا آپ کو خط ملا کہ حضرت اقدس آپ کی بیعت قبول فرماتے ہیں۔خط لکھتے رہا کریں۔" الحکم ۲۸/ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۹ کالم سو پر آپ کا نام مبائعین میں درج ہے۔سالانہ جلسہ دسمبر ۱۹۰۲ء میں پہلی مرتبہ قادیان کی زیارت کی اور حضور کے ہاتھ پر مسجد مبارک میں (دستی) بیعت کی۔قاضی صاحب نے اردو قاری اور پشتو زبان میں جو تصانیف کی ہیں ان کی تعداد سو سے متجاوز ہے۔آپ کے ذریعہ سے کئی سعید رو میں داخل احمدیت ہو ئیں۔آپ ایک لمبا عرصہ تک صوبہ سرحد کی امارت کے فرائض نہایت کامیابی سے سرانجام دیتے رہے۔ولادت ۸۷-۱۸۸۹ء۔۱۹۰۲ء میں پہلی مرتبہ قادیان آئے اور ۱۹۰۴ء میں مستقل ہجرت کر کے اخبار الحکم کے عملہ میں شامل ہو گئے۔جولائی 1999ء میں صدر انجمن احمدیہ میں ملازم ہوئے۔۱۹۲۳ء میں تحریک چندہ خاص کو کامیاب بنانے میں خاص حصہ لیا۔۱۹۳۱ء میں کشمیر ریلیف فنڈ کے فنانشل سکرٹری بنے۔۱۹۳۲ء میں صدر انجمن احمد یہ کے آڈیٹر مقرر ہوئے۔۱۹۳۴ء میں تحریک جدید کے مالی شعبہ کے انچارج بنے۔۱۹۵۷ء میں تحریک جدید کی تئیس سالہ خدمات کے بعد ایک کامیاب و کامران وکیل المال کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے اور کے ماہ شہادت /۱۳۳۹اہش اپریل ۱۹۶۰ء کو انتقال کیا۔ان کی آخری شاندار خدمت کتاب " تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین " کی تیاری اور اشاعت ہے۔اس طرح انہوں نے i