تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 260
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۵۷ حواشي ذکر حبیب صفحہ ۱۰۷ English Masalahs by Ronald Mathews -I Publishors, Mathaen and co Ltd London 36 Essen street W۔C اسلام کی فلح عظیم مفصل خط اخبار " البدر ۲۱ / نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۲۹ کالم ۲ - ۳ پر درج ہے۔مفصل خط اخبار " البدر ۲۱۔نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲۹ ذکر حبیب از مفتی محمد صادق صاحب صفحہ ۱۰۶۔۱۰۷ حضرت اقدس کے اشتہار کے یہ الفاظ اخبار سنڈے سرکل لندن ۱۴۔فروری ۱۹۰۳ء سے ماخوذ ہیں جو " ریویو آف ریلیجن اردو ( ۱۹۰۳ء) صفحہ ۳۴۹-۳۵۱ پر چھپ چکے ہیں۔ریویو آف ریلیجز ۱۹۰۳ء صفحه ۳۴۸-۳۵۱ ریویو آف ریلیجز "اردو (۱۹۰۷ء) صفحه ۱۴۴ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے بعض انگریز محققین کے بیانات کا ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ایک انگریز مورخ رانڈ میتھیوز (Ronald Mathewa اپنی کتاب "English Messiaha میں منٹ کے حالات میں لکھتا ہے کہ جان ہیوگ سمتھ پگٹ ۱۸۵۲ء میں پیدا ہوا۔۱۸۸۲ء میں کلیسیائے انگلستان میں شامل ہو گیا۔۱۸۹۲ء میں کیپٹن میں ہنری جیمز پرنس کے چرچ کا اجراء ہوا۔یہاں پنکٹ ہر اتوار کو فرقہ کے اراکین سے خطاب کیا کرتا تھا اور بتا تا تھا کہ روح القدس کے پیغامبر ہنری جیمز پرنس کی پیش گوئی کے مطابق نجات دہندہ یسوع مسیح کی آمد قریب ہے۔۱۸۹۹ء میں ہنری جیمز پرنس کا انتقال ہو گیا۔اب آہستہ آہستہ پگٹ کے خطبات کا انداز بدلنے لگا کہ مسیحا کی آمد ثانی موہوم امید نہیں بلکہ یقینی چیز ہے اور یہاں تک کہہ دیا کہ عین ممکن ہے کہ آنے والے مسیح ان کے درمیان ہی ہوں۔آخر ۹۔ستمبر ۱۹۰۲ء بروز اتوار اس نے حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا ”ہنری جیمز پرنس مسیحا کی آمد ثانی کے لئے راستہ تیار کرنے کے لئے آئے تھے اور انہوں نے جو کچھ بتایا تھا وہ درست تھا۔میں آج رات جو آپ کے سامنے کھڑا تقریر کر رہا ہوں۔وہی یسوع مسیح ہوں جو فوت ہوا۔اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر چلا گیا۔" اخبارات میں اس کے دعوئی مسیحائی کی خبر چھپ گئی۔اس کے جلد بعد اس کی اتنی زیادہ مخالفت ہوئی کہ کوشش کے باوجود وہ دوبارہ اپنے کلیپٹن کے گرجا میں عبادت و خطبات کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکا۔اور لنڈن چھوڑ کر سیکسٹن Spexton چلا گیا اور اپنی زندگی کے آئندہ ۲۵ برس وہیں گوشہ تنہائی میں گزارے اور مارچ ۱۹۲۷ء میں اس کی وفات ہوئی :English Messiaha صفحه ۱۸۳ تا۱۹۵) ایک اور انگریز مسٹری۔ڈی۔ٹی بیکر کار CDT Bahar - Carry لکھتا ہے کہ ۱۹۰۲ء میں پگٹ نے دعوئی الوہیت کیا۔اس کے فرقہ کے اکثر افراد اپنے گھٹنوں کے بل جھک گئے اور سینکڑوں لوگ دور دراز سے صرف اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے آئے۔وہ اپنے آپ کو خدا کہتا تھا۔اس نے مسیح کا بھی لقب اختیار کیا اور ایک مرتبہ تو اتوار کے دن تقریباً چھ ہزار آدمی صبح سے شام تک گرجے کے باہر اس کو دیکھنے کے منتظر بیٹھے رہے۔گھوڑ سوار پولیس مجمع کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔اس کے باوجود چند لوگ گرجے کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔شام کو جب اس کے گھر جانے کا وقت آیا تو انتہائی مشکل کے ساتھ پکٹ کو اپنے گھر کار استہ ملا۔پھر بھی بعض افراد نے اس پر اینٹیں اور پھر پھینکے۔نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس کی حفاظت نہ ہوتی اس کے لئے گھر تک پہنچنا بڑا مشکل ہوتا۔جب لندن میں اس شخص کے متعلق نفرت اور حقارت انتہاء کو پہنچی تو یہ سمرسیٹ کے مقام پر چلا گیا اور وہاں اپنے فرقے کو ترقی دینے کے متعلق تدابیر اختیار کرتا رہا۔کہا جاتا ہے کہ وہاں ایک خوبصورت لڑکی جس کا نام "پریس " FREECE تھا آئی اور چگٹ اور اس کی بیوی کے ساتھ رہنے لگی۔۲۳۔جون ۱۹۰۵ء کو اس لڑکی کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام گلوری رکھا گیا۔