تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 247 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 247

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۴۴ اسلام کی فتح عظیم بعض اخبارات نے حضرت اقدس کا فوٹو شائع کیا۔بعض نے قبر مسیح کی تصویر بھی چھاپی۔اخبار ار گوناٹ سان فرانسکو " نے حضرت اقدس کے پیش فرمودہ طریق فیصلہ کو معقول اور منصفانہ تجویز قرار دیا۔اخبار " بر لنگٹن فری پریس " نے لکھا۔" مسیح موعود نے بڑی ہوشیاری سے ایک ایسا ہتھیار تجویز کر دیا ہے کہ اگر ڈوئی اس تجویز کو نہ مانے تو دوسرے الفاظ میں اس کا یہ مطلب ہوگا کہ وہ اپنے معالمہ کو اس بڑے مقتدر حاکم کے ہاتھ میں نہیں دینا چاہتا جس کی طرف سے وہ ہونے کا مدعی ہے۔" شکاگو کے ایک اخبار نے یہ تبصرہ کیا کہ ڈوئی نے چیلنج کو منظور نہیں کیا اور نہ اب تک انکار ہی کیا ہے۔غالبا پہاڑ کی خوش گوار ہوا میں وہ جواب تجویز کر رہا ہے۔ممکن ہے کہ بحیثیت فریق ثانی وہ شرائط میں کچھ تبدیلی چاہے۔اس صورت میں اس کی درخواست یہ ہوگی کہ بجائے دعا کے گالیوں میں مقابلہ کیا جاوے اور جو دو سرے کو زیادہ گالیاں دے سکے وہی فتح یاب سمجھا جائے۔ڈوئی کی خاموشی حضور کے اشتہار کو ایک سال گزر گیا اور امریکہ کے اخباروں نے اس کی بکثرت اشاعت کر کے ڈوئی کو شرم دلائی مگر ڈوئی نے اب بھی ایک لفظ تک منہ سے نہ نکالا اور نہ اس چیلنج کو قبول کیا نہ انکار۔البتہ اس نے مفتی محمد صادق صاحب فنانشل سیکرٹری انجمن اشاعت اسلام کے نام ایک پرائیویٹ خط میں لکھا " خواہ کوئی شخص مجھے الیاس مانے یا نہ مانے میرے سلسلہ میں داخل ہو سکتا ہے۔میری نبوت کو ماننا میرے سلسلہ میں داخل ہونے کے لئے ضروری نہیں۔" بعض امریکی اخباروں نے لکھا کہ ڈاکٹر ڈوئی کے مریدوں سے جب اس خاموشی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ڈائی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ کسی پنجابی سے مقابلہ کرے۔حضرت مسیح موعود کا دوسرا اشتہار اور حضور نے جب دیکھا کہ ڈوئی ایک سال کا عرصہ ڈوئی کے عبرت ناک انجام کی پیشگوئی گزر جانے پر بھی نہ کھلے طور پر میدان مقابلہ میں آتا ہے نہ اپنی بد زبانی سے باز آتا ہے تو حضور نے ۲۳/ اگست ۱۹۰۳ء کو ایک اور انگریزی اشتہار جو چھ صفحے کا تھالا ہو ر سے شائع فرمایا۔اس اشتہار میں مترجم کا نوٹ بھی درج تھا اور نیچے حضور کے دستخط تھے۔اور اشتہار کا عنوان تھا۔"گٹ اور ڈوئی کے متعلق پیش گوئیاں۔" حضور نے اس اشتہار میں صاف صاف تحریر فرمایا کہ۔"مسٹرڈوئی اگر میری درخواست مباہلہ قبول کرے گا اور صراحتا یا اشارہ میرے مقابلہ پر کھڑا ہو گا تو میرے دیکھتے دیکھتے بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ اس دنیائے فانی کو چھوڑ دے گا۔"