تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 237 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 237

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۳۴ جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی صالحین کے خلاف بہت سے مسائل اختراع کئے اور لکھا کہ قرآن میں سب احکام شرعیہ مفصل و مشرح موجود ہیں لہذا احادیث کی ضرورت نہیں۔رسول اللہ کا منصب صرف اتنا ہے کہ وہ پیغام رساں ہیں انہیں تبلیغ قرآن کے علاوہ حدیث سے کوئی تشریح با تفصیل بیان کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ان عقائد کی شہرت ہوئی تو کئی ایک اہل حدیث بھی اس سے متاثر ہوئے۔یہ دیکھ کر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی سے ایک تحریری مباحثہ کیا۔جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۲۷ / نومبر ۱۹۰۲ء کو ایک محاکمہ لکھا۔حضرت اقدس کا محاکمہ اس محاکمہ میں حضور نے تحریر فرمایا۔و مسلمانوں کے ہاتھ میں اسلامی ہدایتوں پر قائم ہونے کے لئے تین چیزیں ہیں (۱) قرآن شریف جو کتاب اللہ ہے جس سے بڑھ کر ہمارے ہاتھ میں کوئی کلام قطعی اور یقینی نہیں وہ خدا کا کلام ہے وہ شک اور ظن کی آلائشوں سے پاک ہے (۲) دوسری سنت اور اس جگہ ہم اہل حدیث کی اصطلاحات سے الگ ہو کر بات کرتے ہیں۔یعنی ہم حدیث اور سنت کو ایک چیز قرار نہیں دیتے جیسا کہ رسمی محدثین کا طریق ہے بلکہ حدیث ایک الگ چیز ہے اور سنت الگ چیز۔سنت سے مراد ہماری صرف آنحضرت کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تو اتر رکھتی ہے اور ابتداء سے قرآن شریف کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ ہی رہے گی یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کا قول ہے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نعل۔۔۔(۳) تیرا ذ ریعہ ہدایت کا حدیث ہے۔اور حدیث سے مراد ہماری وہ آثار ہیں کہ جو قصوں کے رنگ میں آنحضرت سے قریباً ڈیڑھ سو برس بعد مختلف راویوں کے ذریعوں سے جمع کئے گئے۔پس سنت اور حدیث میں مابہ الامتیاز یہ ہے کہ سنت ایک عمل ہے جو اپنے ساتھ تو اتر رکھتا ہے جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے جاری کیا اور وہ یقینی مراتب میں قرآن شریف سے دوسرے درجہ پر ہے اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن شریف کی اشاعت کے لئے مامور تھے ایسا ہی سنت کی اقامت کے لئے بھی مامور تھے۔۔۔اس لئے یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ان حدیثوں کا دنیا میں اگر وجود بھی نہ ہو تا جو مدت دراز کے بعد جمع کی گئیں تو اسلام کی اصلی تعلیم کا کچھ بھی حرج نہ تھا کیونکہ قرآن اور سلسلہ تعامل نے ان ضرورتوں کو پورا کر دیا تھا تاہم حدیثوں نے اس نور کو زیادہ کیا گویا اسلام نور اعلیٰ نور ہو گیا اور حدیثیں قرآن اور سنت کے لئے گواہ کی طرح کھڑی کی گئیں اور اسلام میں بہت سے فرقے جو بعد میں پیدا ہو گئے ان میں سے بچے فرقے کو احادیث صحیحہ سے بہت