تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 234
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ ۲۳۱ جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی سید نا حضرت مسیح موعود کا دس ہزار روپے کا چیلنج سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی ثناء اللہ صاحب اور ان کے مددگاروں کو اعجاز احمدی" میں دس ہزار روپے کا انعامی چیلنج دیتے ہوئے اعلان فرمایا تھا کہ اگر وہ اسی میعاد میں یعنی پانچ دن میں ایسا قصیدہ معہ اسی قدر اردو مضمون کے جواب کے جو وہ بھی ایک نشان ہے بنا کر شائع کر دیں تو میں بلا توقف دس ہزار روپیہ ان کو دے دوں گا چھپوانے کے لئے ایک ہفتہ کی ان کو مہلت دیتا ہوں یہ کل بارہ دن ہیں اور دو دن ڈاک کے بھی ان کا حق ہے۔" "دیکھو میں آسمان اور زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ آج کی تاریخ سے اس نشان پر حصر رکھتا ہوں۔اگر میں صادق ہوں اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں صادق ہوں تو کبھی ممکن نہیں ہو گا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اور ان کے تمام صاحب اور ان کے تمام مولوی پانچ دن میں ایسا قصیدہ بنا سکیں اور اردو مضمون کا رد لکھ سکیں کیونکہ خدا تعالٰی ان کی قلموں کو توڑ دے گا اور ان کے دلوں کو غیبی کر دے گا۔" اس انعامی چیلنج کے علاوہ حضور نے دس ہزار روپیہ کا ایک الگ انعامی اشتہار بھی دیا جس میں اصل میعاد سے چھ دن کی مزید توسیع کا یہ اعلان فرمایا کہ "اگر میں دن میں جو دسمبر ۱۹۰۲ ء کی دسویں کے دن کی شام تک ختم ہو جائے گی انہوں نے اس قصیدہ اور اردو مضمون کا جواب چھاپ کر شائع کر دیا تو یوں سمجھو کہ میں نیست و نابود ہو گیا اور میرا سلسلہ باطل ہو گیا۔اس صورت میں میری تمام جماعت کو چاہیے کہ مجھے چھوڑ دیں اور قطع تعلق کریں۔مخالف علماء کے قلم ٹوٹ گئے خدائی تائید و نصرت سے لکھے ہوئے اعجازی مضمون اور قصیدے کا ارضی علماء بھلا کیا جواب دیتے یا دے سکتے تھے۔پوری مقررہ میعاد گزرگئی مگروہ "اعجاز المسیح اور الہدی " کی طرح " اعجاز احمدی " کا جواب شائع کرنے میں بھی سراسر نا کام رہے اور جیسا کہ سلطان القلم نے قبل از وقت پیشگوئی فرمائی تھی خدا تعالیٰ نے سچ مچ ان کے دل نبی کر دیئے اور ان کے قلم توڑ دئیے۔ایک شخص قاضی ظفر الدین احمد صاحب پروفیسر اور شیل کالج نے اس کے جواب میں عربی نظم لکھنا شروع کی مگر ابھی چند شعر لکھے تھے کہ ملک الموت نے ان کو آلیا۔ان کی وفات کے چار سال بعد ان کا ایک بیٹا فیض اللہ خاں ایک احمدی منشی مناسب علی صاحب جالندھری سے مباہلہ کر کے ۱۳ اپریل ۱۹۰۷ء کو ہلاک ہو گیا۔میرٹھ کے ایک اخبار "شحنہ ہند نے اعجاز احمدی کا انعامی اعلان پڑھ کر یہ تعلی کی کہ آئندہ شروع سال ۱۹۰۳ء (یعنی میعاد کے بعد اس کتاب کا اعجازی جواب شائع کیا جائے گا۔اور اس غرض کے لئے اس نے مسلمانوں سے تین ہزار روپے چندہ کی بھی اپیل کی مگریہ اعلان بھی محض ایک اخباری tt TA