تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 233
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۳۰ جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی دیں کہ یہ کتاب دو برس میں لکھی گئی ہے اور ہمیں بھی دو برس مہلت ملنی چاہیے تو یہ امر عوام کی نظر میں مشتبہ ہو جائے گا۔حضور کئی روز تک اسی فکر میں تھے کہ ۷ /نومبر ۱۹۰۲ کی شام کو آپ کے دل میں ڈالا گیا کہ ایک اعجازی رنگ کا عربی قصیدہ مد کے مباحثہ کے متعلق لکھیں کیونکہ بہر حال مباحثہ مد کا زمانہ تو یقینی اور قطعی ہے۔مگر حضور کو دوسرے روزے / نومبر ۱۹۰۲ء کو بٹالہ میں ایک گواہی کے لئے تشریف لے جانا پڑا اور قادیان سے بٹالہ تک آپ نے رتھ میں ہی بیٹھے ہوئے عربی قصیدہ کے چند اشعار رقم فرمائے۔پھر ۸ / نومبر ۱۹۰۲ء سے باقاعدہ اسے لکھنا شروع کر دیا بالا خریہ عربی قصیدہ مع ایک اردو مضمون کے اجس میں مولوی ثناء اللہ صاحب کے اعتراضات کے جوابات دیئے گئے تھے اور حضور کی کتابوں کا ایک جامع خلاصہ تھا) ۱۲/ نومبر کو پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔قصیدہ میں حضور نے مناظرہ مد کے واقعات کا بڑے جامع رنگ میں نقشہ کھینچا اور اپنی سچائی کے ثبوت میں بھاری دلائل دیے اور بتایا کہ لوگ بہشت اور اس کے انعام ولذات کے طلب گار ہیں مگر میری خواہش جس پر میری خوشی موقوف ہے فقط یہ ہے کہ کسی طرح صلیب ٹوٹ جائے یہی میرا فردوس اور یہی میری جنت ہے۔اس قصیدہ میں حضور نے مولوی سرور شاہ صاحب کو شیر قرار دیتے ہوئے فرمایا :- فكان ثناء الله مقبول قومس ومنا تصدی للتخاصم سرور كان مقام البحث كان کاجمته 叫 الذئب يعوى والغضنفر بزه ر یعنی بحث کے لئے مولوی ثناء اللہ صاحب جو اپنی قوم میں مقبول سمجھے جاتے تھے پیش ہوئے اور ہماری طرف سے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب بطور مناظرہ پیش ہوئے۔گویا بحث کا مقام ایک ایسے جنگل کی طرح تھا جس میں ایک طرف بھڑیا چیچنا تھا اور دوسری طرف شیر دھاڑ رہا تھا۔" اعجاز احمدی کی اشاعت حضرت اقدس کا یہ مضمون اور قصیدہ اعجاز احمدی" کے نام سے ۱۵ / نومبر ۱۹۰۲ء کو ساڑے تین ہزار کی تعداد میں شائع ہوا۔اگلے ہی روز مولوی محمد سرور شاہ صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب تراب اس کے نسخے لے کر مولوی ثناء اللہ صاحب اور دوسرے مخالفین میں تقسیم کرنے کے لئے امر تسر گئے۔اس رسالہ میں چونکہ پیر مہر علی شاہ صاحب، مولوی اصغر علی صاحب اور مولوی علی حائری صاحب شیعہ بھی مخاطب تھے اس لئے اسی تاریخ کو انہیں بھی یہ رسالہ بذریعہ رجسٹری روانہ کر دیا گیا۔