تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 10
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام گئی اس کتاب میں آنحضرت ا اور حضور کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہا کو اتنی غلیظ گالیاں دی گئی تھیں کہ مسلمانان ہند کے جگر چھلنی اور دل پارہ پارہ ہو گئے اور ہر طرف اس کے خلاف بہت شور اٹھا اور اخباروں میں زبر دست احتجاج کیا گیا۔ہندوستان کے شرق و غرب میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔انجمن حمایت اسلام لاہور نے یہ اشتعال دیکھ کر گورنمنٹ کے نام ایک میموریل بھیجا کہ کتاب، ضبط کر لی جائے حالانکہ کتاب ہزاروں کی تعداد میں مفت تقسیم ہو کر اپنا ز ہر پوری شدت سے پھیلا چکی تھی اور اس کی ضبطی کا سوال اٹھانا محض اپنی شکست کا اعتراف کرنا تھا اور جیسا کہ ایک مسلمان اخبار " مخبر د کن" نے بھی تسلیم کیا تھا اس مطالبہ کی منظوری سے اس کے سوا اور کوئی نتیجہ بر آمد نہ ہو سکتا کہ مخالفین اسلام بھی اسلامی لٹریچر کی ضبطی کا مطالبہ شروع کر دیتے اور یہ چکر ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کی صورت اختیار کر جاتا اور بالاخر تبلیغ اسلام کے رستے قریب مسدود ہو کے رہ جاتے۔۱۳۵ یہ نازک صورت حال دیکھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے میموریل کر سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسلمانوں کی راہنمائی کے لئے نور امیدان عمل میں آئے اور حضور نے اپنی جماعت اور روشن خیال مسلمانوں کی طرف سے ۱۴ مئی ۱۸۹۸ء کو لیفٹیننٹ گورنر صاحب پنجاب کو ایک مفصل میموریل بھجوایا کہ انجمن حمایت اسلام کے میموریل سے ہم قطعاً متفق نہیں ہیں۔اسلام ایک مقدس اور معقول مذہب ہے اس کے نزدیک دین میں جبر و اکراہ جائز نہیں ہے۔پس مذہبی آزادی کا دروازہ کھلا رکھنا ضروری ہے تا مذ ہبی علوم و معارف میں لوگ ترقی کریں۔اور چونکہ اس عالم کے بعد ایک دو سرا عالم بھی ہے جس کے لئے ابھی سے سامان چاہیے اس لئے ہر ایک حق رکھتا ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ ہر ایک مذہب پر بحث کرے۔ہاں اس کے لئے تہذیب و شائستگی سے کام لینا ضروری ہے مگر کتاب امہات المومنین میں ہمارے نبی کریم ﷺ کو انتہائی شرمناک اور مکروہ ترین الفاظ سے یاد کیا گیا۔اور یہ سب کچھ اس قوم نے کیا جس کا دعویٰ تہذیب کا تھا مگر قرآن مجید کا نہیں یہی حکم ہے کہ ہم اہل کتاب تک حکیمانه اند از ناصحانہ رنگ اور احسن پیرایہ میں خدا کا پیغام پہنچا ئیں۔اسلام کوئی عاجز اور فروماندہ دین نہیں کہ جو حملہ کرنے والوں کا جواب دینے سے عاجز ہو۔پس کتاب ”امات المومنین " کے خلاف حکومت اپنے ملکی قوانین کے لحاظ سے از خود جو چاہے قدم اٹھائے مگر ہمارا فرض صرف یہ ہونا چاہیے کہ ہم اس کے اعتراضات کا جو در حقیقت نہایت نادانی یا دھوکہ دہی کی غرض سے کئے گئے ہیں خوبی اور شائستگی کے ساتھ جواب دیں اس طرح اس کتاب کی قبولیت خود بخود گر جائے گی۔