تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 222 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 222

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۱۹ جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی اور گلٹیوں کا نام و نشان بھی نہ رہا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔اور نہ صرف اس قدر بلکہ پھرنا۔چلنا۔کھیلنا۔دوڑنا شروع کر دیا۔گویا کبھی کوئی بیماری نہیں ہوئی تھی۔یہی ہے احیائے موتی۔میں حلفاً کہتا ہوں کہ حضرت عیسی کے احیائے موتی میں اس سے ایک ذرہ کچھ زیادہ نہ تھا۔" " تحفتہ الندوة" کی تصنیف و اشاعت دار العلوم دیو بند اور علی گڑھ تحریک کے متوازی ایک وسطی طریق اختیار کرنے کے لئے ۱۸۹۴ء سے ایک تنظیم لکھنو میں ندوۃ العلماء" کے نام سے کام کر رہی تھی۔اس تحریک کے مقاصد میں نصاب تعلیم کی اصلاح اسلامی دار العلوم اور دار الافتاء کا قیام خاص طور پر شامل تھا۔مولوی سید محمد علی صاحب کانپوری اس کے ناظم اول تھے۔شمس العلماء مولانا شبلی نعمانی (۱۸۵۷ - ۱۹۱۴) اور مولوی عبدالحق صاحب دہلوی مولف تغییر حقانی نے اس کے قواعد و ضوابط مرتب کئے اور مسلمانوں کے بڑے بڑے لیڈروں مثلاً سرسید نواب محسن الملک نواب وقار الملک نے اس کا خیر مقدم کیا اپریل ۱۸۹۴ء میں بمقام کانپور اس کا سب سے پہلا جلسہ ہوا۔اس کے بعد لکھنو بریلی اور میرٹھ میں بھی جلسے ہوئے۔1901 ء میں ندوۃ العلماء کا کلکتہ میں اجلاس ہوا تو اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی شمولیت کی دعوت دی گئی۔حضور تو اپنی دیگر دینی مصروفیات کے باعث شامل نہ ہو سکے البتہ حضور کی طرف سے مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک مفصل تبلیغی خط ندوہ کے نام لکھا جس میں امام الزمان کی آواز پر لبیک کہنے کی تحریک کی مگر اہل ندوہ نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔اگلے سال ۱/۱۰/۹ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو اس کا اجلاس امرتسر میں ہونا قرار پایا۔II حافظ محمد یوسف صاحب پٹنر نے جو لو تقول کی آیت کے متعلق آپ سے الجھ رہے تھے ایک ہفتہ قبل ۲/ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو حضرت مسیح موعود کے نام اشتہار دیا کہ میرے اس مسلک کے ثبوت میں کہ مفتری د کاذب ملہم بھی آنحضرت کی طرح دعوئی الہام کے بعد تئیس برس تک عمر پا سکتا ہے۔ان کے دوست ابو اسحاق محمد دین نے " قطع الوتین " نامی رسالہ لکھا ہے جس میں ایسے مدعیان کاذب کے نام مع مدت دعوئی تاریخی کتابوں کے حوالے سے درج ہے۔مرزا صاحب بھی جلسہ میں شامل ہوں، اور لکھ دیں کہ رسالہ " قطع الوتين " میں بیان شدہ مثالوں کو اگر ندوۃ کے منتخب علماء تاریخی لحاظ سے صحیح تسلیم کرلیں تو مرزا صاحب عین جلسہ پر ہی توبہ کا اعلان کر دیں گے۔اشتہار سے چونکہ آنحضرت ﷺ کی سچائی پر حرف آتا تھا اور آنحضرت کی سختہ تو ہین ہوتی تھی۔اس لئے حضرت اقدس نے ۶ / اکتوبر ۱۹۰۲ء کو ایک مختصر سا رسالہ " تحفتہ الندوۃ" کے نام سے شائع فرمایا جس میں حضور نے نہایت لطیف