تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 218
تاریخ احمد بیت ، جلد ۲ ۲۱۵ جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی کشتی نوح کی تصنیف و اشاعت الدار" کی غیر معمولی حفاظت اور جماعت کی حیرت انگیز ترقی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۵ / اکتوبر ۱۹۰۲ء کو "کشتی نوح" تقویتہ الایمان" کے نام سے حقائق و معارف پر مشتمل ایک لطیف کتاب شائع فرمائی جس میں حضور نے گورنمنٹ کی طرف سے طاعون کے ٹیکہ کے انتظامات کو سراہا مگر ساتھ ہی لکھا ”اگر ہمارے لئے ایک آسمانی روک نہ ہوتی تو سب سے پہلے رعایا میں سے ہم ٹیکا کراتے۔اور آسمانی روک یہ ہے کہ خدا نے چاہا ہے کہ اس زمانہ میں انسانوں کے لئے ایک آسمانی رحمت کا نشان دکھاوے۔سوا اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ " تو اور جو شخص تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہو گا اور جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائیگا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے اور ان آخری دنوں میں خدا کا یہ نشان ہو گا تا وہ قوموں میں فرق کر کے دکھلاوے۔" نیز لکھا:۔" انجام کار لوگ تعجب کی نظر سے اقرار کریں گے کہ نسبتاء مقابلہ خدا کی حمایت اس قوم کے ساتھ ہے اور اس نے خاص رحمت سے ان لوگوں کو ایسا بچایا ہے جس کی نظیر نہیں۔" "الدار" کی توسیع کشتی نوح میں ہی حضور نے اپنے خدام سے یہ تحریک فرمائی کہ ہمارا گھر جس کے لئے خدا نے حفاظت خاص کا وعدہ فرمایا بطور کشتی کے تو ہے مگر آئندہ اس کشتی میں نہ کسی اور مرد کی گنجائش ہے نہ عورت کی۔اس لئے اس کی توسیع کے لئے چندہ کی ضرورت ہے۔چنانچہ صحابہ نے اس تحریک میں حصہ لیا۔مکان کی وسعت صرف اس کے غربی جانب ہو سکتی تھی اور یہ جگہ مرزا غلام حیدر متوفی کی حویلی تھی اور مرزا امام الدین صاحب کے قبضہ میں تھی۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب کی کوشش سے مرزا امام الدین صاحب اس بات پر راضی ہو گئے کہ حویلی میں ہے حضور کا حصہ بھی دے دیں نیز بقیہ حصہ قیمت پر حضور کے ہاتھ فروخت کر دیں۔اس حویلی کا ملحق مکان ڈپٹی شنکر داس کے قبضہ میں تھا جو شیخ صاحب نے خود خرید لیا اور اس کا تیسرا حصہ