تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 215
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ رسال حواشی سلسلہ احمدیہ صفحه ۱۸ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب۔"حیات احمد " جلد پنجم صفحہ ۳۹ حالات ۲۔۱۹۹۱ء) حضور کے ان مضامین کے علاوہ وہ جو پہلی دفعہ اس رسالہ میں شائع ہوئے۔آپ کی متعدد تصانیف کے متن یا تراجم بھی اس میں چھپے مثلاً اسلامی اصول کی فلاسفی - کشتی نوح۔لیکچر لاہور۔نیم دعوت۔تذکرۃ الشہاد تین۔الوصیت البدر ۲۱۳ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲۹ رساله البیان جلد ۴ نمبر۵ صفحه ۲۲ بحوالہ " ریویو آف ریلیجز "اردو دسمبر ۱۹۰۵ء ٹائٹل صفحه ۲) رساله " البیان جلد ۵ صفحه ۲۶۰ - بحوالہ ریویو آف ریلیجه " (اردو) د سمبر ۱۹۰۵ء سرورق۔بحوالہ الحکم ۷ / جنوری 1911ء صفحہ ۱۴ ریویو آف ریلیجر " (اردو) سرورق ۱۹۰۵ء بحوالہ سلسلہ احمدیہ صفحہ ۱۱۹ بحوالہ "حیات احمد " جلد پنجم (حالات ۲ - ۱۹۰۱ء) - مولوی محمد علی صاحب ۱۹۱۳ء تک رسالہ کے اردو اور انگریزی ایڈیشنوں کے ایڈیٹر رہے۔ان کے بعد ۱۹۴۷ء تک ریویو آف ریلیجز " انگریزی کی ادارت کے فرائض مندرجہ ذیل حضرات نے سر انجام دیے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت مولوی شیر علی صاحب مولوی محمد دین صاحب مولوی عبد الرحیم صاحب درد۔خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے۔صوفی عبد القدیر صاحب نیاز چوہدری علی محمد صاحب بی۔اے۔بی۔ٹی۔تقسیم ہند کے بعد اس رسالہ کا دوبارہ احیاء ربوہ میں دسمبر ۱۹۵۱ء میں ہوا اور اس کے ایڈیٹر صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی مقرر ہوئے۔آپ کی وفات کے بعد چوہدری مظفرالدین صاحب اس کے مدیر ہوئے۔۱۹۹۰ء میں مکرم سید داؤد احمد صاحب پر نسپل جامعہ احمدیہ اس کے منیجنگ ایڈیٹر بنے۔جولائی ۱۹۶۲ء سے جناب سید صاحب موصوف اور جناب صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ادارت کے فرائض بجالا رہے ہیں۔(خلافت رابعہ کے عہد مبارک میں اب یہ رسالہ لنڈن سے چھپ رہا ہے) ریویو آف ریلیجہ اردو میں ۱۹۴۷ء تک جن اصحاب نے وقتا فوقتا یہ فریضہ ادا کیا ان کے نام یہ ہیں۔حضرت مولوی شیر علی صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب۔حضرت مولوی محمد دین صاحب قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل۔نذیر احمد صاحب افریقی۔نور الدین صاحب بی۔اے۔بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی۔مولوی علی محمد صاحب اجمیری۔ملک محمد عبد اللہ صاحب۔ملک غلام فرید صاحب۔صوفی عبد القدیر صاحب نیاز۔چوہدری علی محمد صاحب بی۔اے۔بی۔ٹی۔رحمت اللہ خاں صاحب شاکر۔ستمبر۷ ۱۹۴ء سے ریویو اردو بند ہو چکا ہے اور ابھی تک اس کا اجراء نہیں ہوا۔الحکم ۳۰/ تمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۱۹-۲۰ الحکم ۳۰/ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۹-۲۰ ۱۳ مکتوبات احمد یہ جلد حصہ اول صفحہ ۳۲ ۱۴ واقع البلاء و معیار اہل الاصطفاء " ( طبع اول صفحہ ۱۰) وافع البلاء و معیار اہل الاصطفاء " ( طبع اول) صفحه ۱۸ -11۔| السید محمد رشید رضا کی وفات پر علمائے ہند نے لکھا تھا۔" علامہ ابن تیمیہ کے بعد آج تک کسی مسلمان عالم نے مرحوم کے برابر دین کی خدمت نہیں کی۔"علامہ رشید رضا علم کے بحر ذخار تھے۔تفسیر حدیث اور فقہ کے امام تھے اور اسلامی تعلیمات کے بارے میں جو کچھ ارشاد فرماتے تھے وہ قول فیصل کا حکم رکھتا تھا۔آپ تمام دنیائے اسلام کے محترم تھے یہاں تک کہ سلطان ابن سعود آپ کو امام اور پیشوا کہہ کر