تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 213 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 213

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۱۰ "نزول المسیح" کی تصنیف ن رساله " ریویو کا اجراء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارادہ تھا کہ آپ ایک ایسی کتاب تصنیف فرما ئیں جس میں آپ کے علم کلام اور لٹریچر کا جامع خلاصہ آجائے۔اس غرض کے لئے حضور نے " نزول المسیح " جیسی معركته الاراء تصنیف شروع فرمائی جسمیں علاوہ متعدد لطیف نکات و معارف کے الہام رحمانی کی گیارہ فیصلہ کن نشانیاں تحریر فرمانے کے بعد اپنے الہامات میں سے بطور نمونہ ۱۲۳ پیشگوئیوں کا مفصل ذکر کیا جو پوری ہو ئیں اور جن کے گواہ سینکڑوں کی تعداد میں موجود تھے۔اس کتاب میں حضور نے پہلی دفعہ مولوی کرم دین صاحب ساکن بھین کی خط و کتابت درج فرمائی جس سے یہ انکشاف ہو تا تھا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب نے مولوی محمد حسن صاحب فیضی کے مضمون کا سرقہ کیا ہے۔یہ کتاب ابھی زیر طبع تھی کہ اس کا ایک نسخہ کسی ذریعہ سے مولوی کرم دین صاحب کو پہنچ گیا جس پر انہوں نے عدالت میں مقدمہ وائر کر دیا کہ اس کتاب میں جو میرے خطوط درج ہیں وہ جعلی ہیں بعض دوسری تصنیفات ؟ مصروفیات کے باعث " نزول المسیح" کی تصنیف مکمل نہ ہو سکی اور یہ کتاب حضور کی وفات کے بعد اگست ۱۹۰۹ ء میں شائع ہوئی۔جماعتی چندوں کے لئے ایک نظام کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام سب سے زیادہ اس فکر میں رہتے تھے کہ حق کے طالبوں کا ایک ! گروہ ہمیشہ آپ کے پاس رہے اور دو رو نزدیک سے لوگ آکر رہیں اور اپنے شبہات کا ازالہ کریں اور خدا کی راہ آپ سے سیکھیں۔نیز جو کچھ آپ کتاب یا اشتہار کی شکل میں لکھیں وہ شائع ہو۔اگر چہ یہ سلسلہ اب تک با قاعدگی سے جاری تھا۔اور اس کے لئے جماعت کے مخلصین اپنی مرضی سے حسب توفیق بوجھ اٹھاتے آرہے تھے لیکن اب چونکہ تنہاء لنگر خانے کا خرچ آٹھ سو ماہوار تک پہنچ چکا تھا اور رسہ تعلیم الاسلام اور میگزین (ریویو آف ریلیجنز ) کے اجراء سے جماعت پر مزید ذمہ داریاں عائد ہو چکی تھیں اس لئے وقت آگیا تھا کہ جماعتی چندوں کی فراہمی کے لئے ایک نظام قائم کیا جائے۔لہذا حضرت اقدس نے ۵ / مارچ ۱۹۰۲ء کو بذریعہ اشتہار ہدایت فرمائی کہ ہر ایک احمدی لنگر خانہ اور مدرسہ کی ضروریات کے لئے اپنی استطاعت کے مطابق ماہوار چندہ اپنے پر مقرر کر کے مولوی عبد الکریم صاحب کو اطلاع دے۔ان لازمی چندوں کے علاوہ زکوۃ اور صدقات کی رقوم کے متعلق بھی آپ نے |