تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 212
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ رساله کا اجراء ہیں۔"المنار" کا یہ پرچہ آپ کے مخالف علماء کو ہاتھ آگیا اور انہوں نے اپنی طرف سے مزید حاشیہ آرائی کر کے اسے راولپنڈی کے اخبار ”چودھویں صدی میں شائع کرا دیا جس پر حضور علیہ السلام نے علماء پر واضح کرنے کے لئے کہ جس شخص پر ان کو ناز ہے اس کو علم وادب میں کہاں تک دخل ہے۔الهدى والتَّبْصَرَةُ لِمَنْ يَری" کے نام سے فصیح و بلیغ عربی میں ایک تصنیف فرمائی جو ۱۲ / جون ۱۹۰۲ء کو شائع ہوئی۔الهُدَى وَالتَّبْصَرَةُ لِمَنْ يَری میں حضور نے اسلام کے اندرونی اور بیرونی فتنوں کا مفصل نقشہ کھنچتے ہوئے ان کا حقیقی علاج تجویز فرمایا اور صاحب "المنار" کو مخاطب کر کے لکھا۔"وفقتُ لتاليفِ ذَالِكَ الْكِتَابِ فَسَأَرْسِلُهُ بَعْدَ الطَّبْعِ وَتَحْمِيلِ الْأَبْوَابِ فَإِنْ أَنَّى بِالْجَوَابِ الْحَسَنِ وَاحْسَنَ الرَّةِ عَلَيْهِ فَاحْرِقُ كُتُبِى وَاقَبلُ قَدَمَيْهِ وَ أَعْلِقُ بِذَيْلِهِ وَاكِيلُ النَّاسَ بكَيله - - یعنی میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی اور اس نے میری دعا قبول فرمائی اور اس کی جناب سے مجھے یہ کتاب لکھنے کی توفیق عطا ہوئی پس میں اس کے ابواب کی تکمیل اور طبع کے بعد شیخ رشید رضا کے پاس بھیجوں گا۔اگر انہوں نے اچھا جواب دیا اور عمدگی سے اس کا رد لکھدیا تو میں اپنی تمام کتابیں جلادوں گا ان کے پاؤں کو بوسہ دوں گا ان کے دامن سے وابستہ ہو جاؤں گا اور باقی لوگوں کو بھی اس کے پیمانے سے مایوں گا۔ساتھ ہی یہ پینگوئی فرمائی کہ آلَم لَهُ فِي البَرَاعَةِ يَدْطُولَى سَيُهِنَّ فَلَا يَرَى نَبَا مِنَ اللَّهِ الَّذِي يَعْلَمُ السّرَ وَاخْفى - " یعنی کیا انہیں فصاحت و بلاغت میں بڑا کمال حاصل ہے عنقریب میدان مقابلہ سے ہٹ جائیں گے۔یہ اس خدا کی پیشگوئی ہے جو نہاں در نہاں امور سے آگاہ ہے۔جب کتاب شائع ہوئی تو حضور نے اس کا ایک نسخہ رشید رضا صاحب کو بھی ہدستہ بھجوایا۔انہوں نے اعجاز المسیح" کے متعلق تو لکھ دیا تھا کہ سات دن میں اس کا جواب لکھا جا سکتا ہے مگر اب جو الہدی " میں براہ راست ان کو مخاطب کیا گیا اور کسی مدت کی تعین کئے بغیر اس کا جواب طلب کیا گیا تھا تو ان پر بالکل سکوت طاری ہو گیا۔وہ اس کے بعد تینتیس برس تک زندہ رہے۔اس دوران میں انہوں نے متعدد تصانیف بھی کیں اور اپنا ر سالہ بھی جاری رکھا۔جماعت احمدیہ کے بعض مبلغین نے ان کو ان کی وفات سے پانچ برس پہلے بھی یاد دہانی کرائی کہ وہ الہدی " کے مقابلہ میں کتاب لکھ کر اس پیشگوئی کو باطل ثابت کر دکھا ئیں مگر اس کے باوجو دوہ آخر دم تک جواب نہ شائع کر سکے۔12