تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 204
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ موصوف ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور ان دنوں بیت المال ربوہ میں خدمت سلسلہ بجانا رہے ہیں۔تعریف نہریت میں تبدیلی ۴۶ وزارت ۱۸۸۷ء بیعت 1901ء ہجرت قادیان ۱۷۔1974 ء مدرسہ احمدیہ میں سالہا سال تک عربی کے مدرس رہے۔1919ء میں جب صدر انجمن احمد یہ میں نظار توں کا قیام عمل میں آیا تو آپ ناعم قضاء مقرر ہوئے۔سلسلہ کے مشیر قانونی کی حیثیت ہے عرصہ تک کام کرنے کی توفیق ملی۔آپ کی مشہور تصنیفات یہ ہیں۔جماعت مبائین کے عقائد صحیحہ۔نعم الوکیل - التشریح صحیح جواب کلمہ فضل رحمانی۔بہائی مذہب کی حقیقت۔۲۹۔ہجرت /مئی ۱۳۴۷ ش ۱۹۶۸ء کو آپ کا انتقال ہوا۔ولادت ۱۸۸۲ء بیعت کے بعد ۱۹۰۳ء میں چند دن تک مدرسہ تعلیم الاسلام کی ایک کلاس میں تعلیم دی جس کی بدولت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی کلاس کے معلم ہونے کا فخر بھی حاصل ہوا۔بعدہ کئی ماہ تک ریویو آف ریلیجز کے تناء انچارج کلرک رہے۔پٹنہ ہائی کورٹ اور مدراس ہائی کورٹ میں جب علی الترتیب احمدیہ مسجد مو کھیر اور احمدی کے تلخ نکاح کے مقدمات دائر تھے اور چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے کامیاب وکالت کی تو آپ نے ضروری مواد کی فراہمی میں بڑا کام کیا۔ان ہر دو مقدمات میں جماعت احمدیہ کو کامیابی حاصل ہوئی۔۱۹۲۴ء میں علاقہ ملکانہ میں تین ماہ تک تبلیغی جہاد کیا۔۱۹۰۶ء سے ۱۹۴۶ء تک آپ مو سکھیر کے راجہ صاحبان کی ملازمت میں رہے۔مگر جہاں گئے اسلام واحمدیت کی تبلیغ میں مصروف رہے۔آپ تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں سے ہیں۔حضرت مولوی عبد الماجد صاحب بھاگلپوری کی وفات کے بعد سال ہا سال تک امیر جماعت احمدیہ بہار رہے مگر اب کئی سال سے ہوجہ پیرانہ سالی سبکدوش ہو گئے ہیں (الحکم ۱۷ / فروری 1901ء صفحہ ۸ پر آپ کی بیعت درج ہے)۔وفات یکم مئی ۱۹۷۵ء۔۴۸- الحکم ۱۰ اپریل ۱۹۰۱ صفحه ۴